اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وزارت مذہبی امور نے آئندہ حج کے لیے سرکاری سکیم کے تحت عازمین پر فضائی کرایوں کی مد میں اضافی مالی بوجھ عائد کر دیا ہے، جس سے مجموعی طور پر ایک ارب 67 کروڑ روپے کا اضافی خرچ سامنے آ رہا ہے، یہ اضافی بوجھ وزارت کے چار فضائی کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے نئے معاہدے کی وجہ سے عائد کیا گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اس سال ہر سرکاری اسکیم کے تحت حج پر جانے والے عازمین کو فضائی کرایوں کی مد میں فی کس 14 ہزار روپے اضافی ادا کرنا پڑے گا۔ نئے معاہدے کے تحت ریٹرن ایئر ٹکٹ کی قیمت 2 لاکھ 38 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ گزشتہ حج میں یہ قیمت 2 لاکھ 24 ہزار روپے تھی۔وزارت مذہبی امور کے مطابق اس سال حج کے لیے 1 لاکھ 19 ہزار 210 عازمین سرکاری اسکیم کے تحت سفر کریں گے۔ فضائی خدمات فراہم کرنے والے اداروں میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے)، سعودی ایئرلائنز اور دو نجی فضائی کمپنیاں شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق فضائی کرایوں میں اضافہ عازمین کے لیے مالی دباو میں اضافے کا سبب بنے گا، جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ یہ اضافی اخراجات نئے معاہدوں اور جدید فضائی خدمات کی فراہمی کے پیشِ نظر لازم ہیں۔ وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ عازمین کو بہتر سہولیات اور وقت پر روانگی کے لیے یہ اضافی بوجھ عائد کرنا ضروری تھا۔حج کے لیے فضائی کرایوں میں یہ اضافہ سرکاری سکیم کے تحت جانے والے عازمین کے لیے ایک نیا چیلنج ہوگا، جبکہ وزارت نے وعدہ کیا ہے کہ خدمات کی شفافیت اور سہولیات میں بہتری کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔یہ فیصلہ حج پر جانے والے سرکاری اسکیم کے عازمین کے لیے مالی منصوبہ بندی اور بجٹ میں اہم کردار ادا کرے گا اور وزارت مذہبی امور کے مطابق اس کا مقصد سہولت اور معیار کو بہتر بنانا ہے۔
حج پر جانے والے عازمین پر ایک ارب 67 کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ،فضائی کرایوں میں اضافہ
3