Home » حکومت مطالبات مانے ورنہ روزانہ نیا دھرنا ہو گا،حافظ نعیم الرحمن نے پہیہ جام اور ملک گیر مارچ کی دھمکی دے دی

حکومت مطالبات مانے ورنہ روزانہ نیا دھرنا ہو گا،حافظ نعیم الرحمن نے پہیہ جام اور ملک گیر مارچ کی دھمکی دے دی

by ahmedportugal
22 views
A+A-
Reset

سوات(ایگزو نیوز ڈیسک)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر عوام کو فوری ریلیف فراہم نہ کیا گیا اور جماعت اسلامی کے مطالبات پر پیش رفت نہ ہوئی تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی جبکہ آئندہ مرحلے میں روزانہ دھرنوں،پہیہ جام اور ملک گیر مارچ کا اعلان بھی کیا جا سکتا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق سوات میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے حالیہ ملک گیر ہڑتال کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی سے چترال تک عوام نے احتجاج کے ذریعے اپنے مسائل اور مطالبات کا اظہار کیا،ملاکنڈ ڈویژن کے عوام سمیت مختلف علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں کی بندش اس بات کا اظہار ہے کہ مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ موجودہ تحریک کسی ایک طبقے یا جماعت تک محدود نہیں بلکہ عام آدمی کے مسائل کی آواز ہے،مہنگائی،بجلی کے بھاری بل،مہنگا سفر،روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتیں اور محدود آمدن نے عام شہری کے لیے زندگی مشکل بنا دی ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں مختلف ٹیکسز اور دیگر چارجز کا بوجھ شامل ہونے کے باعث عوام کو اضافی مالی دباو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بوجھ کم کیا جائے تاکہ اس کا براہِ راست فائدہ عوام تک پہنچ سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اگر یہ سمجھتی ہے کہ پیٹرولیم لیوی کم نہیں کی جاسکتی تو اسے عوام کے سامنے مکمل حساب دینا ہو گا۔

حافظ نعیم کے مطابق حکومت کو اخراجات اور مختلف محصولات میں کمی کے ذریعے عوام کو ریلیف دینے کے امکانات تلاش کرنا چاہئیں۔امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاجی تحریک کو اگلے مرحلے میں لے جایا جائے گا،سوات کے نشاط چوک میں دھرنا شروع کیا جائے گا اور آئندہ احتجاج صرف شٹر ڈاون تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پہیہ جام کی صورت بھی اختیار کر سکتا ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پہیہ جام کے بعد ملک کے مختلف حصوں سے پیدل مارچ کیا جائے گا اور پنجاب، سندھ،خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے عوام کو متحرک کیا جائے گا،احتجاجی تحریک کے آئندہ مرحلے کا اعلان مقررہ مدت کے بعد کیا جائے گا۔انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر مذاکراتی عمل محض وقت گزاری تک محدود رہا یا حکومت کی تشکیل کردہ کمیٹی نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو جماعت اسلامی احتجاج کو مزید سخت کرنے پر غور کرے گی،ضرورت پڑنے پر ’حکومت گراو،انقلاب لاو‘ مارچ کی کال بھی دی جا سکتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ حالیہ ملک گیر ہڑتال کے دوران جماعت اسلامی کے تقریباً 1500 کارکن گرفتار کیے گئے جبکہ بعض مقامات پر مظاہرین کے خلاف آنسو گیس بھی استعمال کی گئی۔انہوں نے کارکنوں کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ تحریک ملک کے مختلف حصوں میں پھیل رہی ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کراچی کے تاجروں سے شروع ہونے والی ہڑتال اندرون سندھ کے مختلف شہروں تک پہنچی جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بھی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں،ملاکنڈ ڈویژن میں بھی لوگوں نے بھرپور انداز میں احتجاج میں شرکت کی۔ملاکنڈ ڈویژن کے ٹیکس معاملات پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ماضی میں علاقے کے عوام کو ٹیکسوں میں ریلیف دیا گیا تھا جبکہ خطے نے بدامنی اور دہشت گردی کے سنگین حالات کا سامنا کیا۔ان کا مطالبہ تھا کہ جب تک علاقے کے حالات مکمل طور پر معمول پر نہیں آتے،ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کو ٹیکسوں میں مناسب ریلیف فراہم کیا جائے۔انہوں نے زمینوں پر قبضوں اور مالکانہ حقوق کے مسائل کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو شہریوں کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے،عوام صرف نعروں یا اعلانات کے بجائے اپنے مسائل کا عملی حل چاہتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے بجلی کے نرخوں اور آئی پی پیز کے معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے ماضی میں بھی اس معاملے کو عوامی سطح پر اٹھایا اور اسلام آباد کے مری روڈ پر طویل دھرنا دیا،مذاکرات کے نتیجے میں بجلی کے نرخوں میں ریلیف حاصل ہوا۔انہوں نے آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ بجلی کی پیداوار،قرضوں اور ان پر سود سمیت مختلف اخراجات کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہوتا ہے،حکومت کو توانائی کے شعبے میں ایسے معاہدوں اور ادائیگیوں کا ازسرِنو جائزہ لینا چاہیے جن کا بوجھ براہِ راست عوام برداشت کررہے ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں بہت سے خاندان بچوں کی فیس،گھریلو اخراجات اور بجلی کے بل پورے کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کررہے ہیں،عوامی مسائل پر آواز اٹھانا جماعت اسلامی کی سیاسی جدوجہد کا بنیادی حصہ ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے ایک مرتبہ پھر حکومت پر زور دیا کہ عوام کو حقیقی اور فوری ریلیف فراہم کیا جائے،حکومت کو عوامی دباو اور موجودہ معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی فیصلے کرنا ہوں گے، بصورت دیگر جماعت اسلامی احتجاجی تحریک کو مزید منظم اور وسیع کرے گی۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز