Home » لیوی ختم نہیں تو دھرنا ختم نہیں،حافظ نعیم کا دوٹوک اعلان،حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک مزید پھیلانے کا فیصلہ

لیوی ختم نہیں تو دھرنا ختم نہیں،حافظ نعیم کا دوٹوک اعلان،حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک مزید پھیلانے کا فیصلہ

by ahmedportugal
9 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں، پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کرگئی ہے اور ملک کے مختلف شہروں میں جاری دھرنے ساتویں روز میں داخل ہوگئے ہیں۔جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا ہے کہ مطالبات تسلیم کیے بغیر احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا،لیوی ختم نہیں تو دھرنا ختم نہیں جبکہ تحریک کو مزید وسعت دینے اور آئندہ مرحلے میں لانگ مارچ شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق لاہور، کراچی اور پشاور سمیت مختلف شہروں میں جماعت اسلامی کے دھرنوں میں کارکنوں کے علاوہ خواتین،بچوں،طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک ہیں۔جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے،ایندھن کی قیمتوں میں کمی اور عوام کو مہنگائی سے فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں عوام کو بنیادی سہولیات،معیاری تعلیم،علاج اور روزگار فراہم کرنے کے بجائے ان پر مہنگائی کا بوجھ مسلسل بڑھایا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جس رفتار سے اضافہ ہوتا ہے،خطے کے دیگر ممالک میں اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔امیر جماعت اسلامی نے حکومت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر پیٹرولیم لیوی ختم نہیں کی جاتی تو جماعت اسلامی اپنا دھرنا ختم نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج صرف ایک مقام تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسے ملک گیر مہم کی شکل دی جائے گی اور لانگ مارچ کی جانب بھی پیش رفت کی جائے گی۔حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت مالی مشکلات کا جواز پیش کرتی ہے تو اسے اپنے غیر ضروری اخراجات اور شاہانہ طرز زندگی پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔ ان کے مطابق حکمران اگر واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں تو بڑے سرکاری اخراجات کم کریں،مہنگی گاڑیوں اور دیگر غیر ضروری سہولیات میں کمی لائیں اور عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کے بجائے حکومتی اخراجات کو محدود کریں۔انہوں نے تعلیم اور روزگار کے مسائل پر بھی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے فکرمند ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ان کے بچے بہتر روزگار اور مستقبل کے لیے بیرون ملک چلے جائیں۔ان کے بقول معیاری تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور حکومت اس حق کی فراہمی سے پہلو نہیں بچا سکتی۔

امیر جماعت اسلامی نے خواتین کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں خواتین مختلف شعبوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں، تاہم انہیں روزگار، تعلیم اور پیشہ ورانہ مواقع کے حوالے سے متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ خواتین کو ملازمتوں اور دیگر شعبوں میں درپیش مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کے بجائے ان کے حقوق محدود کیے جا رہے ہیں۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ڈاکٹر بننے والی طالبات کے لیے بھی ہاوس جاب کے مواقع اور مساوی سہولیات کے مسائل موجود ہیں۔ انہوں نے پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے خواتین کے تحفظ اور روزگار کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ خواتین کے مسائل محض دعووں اور نعروں سے حل نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت تعلیم، علاج اور روزگار کی مناسب سہولیات فراہم نہیں کرسکتی تو صرف انتظامی طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوں گے،جماعت اسلامی عوام کے بنیادی حقوق اور معاشی ریلیف کے لیے میدان میں آئی ہے اور موجودہ دھرنا اس جدوجہد کا اختتام نہیں بلکہ آغاز ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج کسی ایک جماعت یا گروہ کا مقدمہ نہیں بلکہ عوام کے مسائل کا مقدمہ ہے۔ انہوں نے حکمران خاندان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے کہ عام شہری کس قدر مشکلات کا شکار ہے اور حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں عوام پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ خواتین محض شوق سے ملازمتیں نہیں کرتیں بلکہ بہت سے خاندانوں کے معاشی حالات انہیں عملی میدان میں آنے پر مجبور کرتے ہیں،ریاست کی ذمہ داری ہے کہ خواتین کو محفوظ ماحول، بہتر روزگار اور بنیادی سہولیات فراہم کرے تاکہ وہ باعزت انداز میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں نوجوانوں کے مستقبل، تعلیم اور روزگار کے مسائل کو نظرانداز کرکے ترقی کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے مختلف تعلیمی اور ہنرمندی کے پروگراموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا ان کی جماعت کی ترجیحات میں شامل ہے۔جماعت اسلامی کے مطابق مختلف شہروں میں جاری دھرنوں میں شرکا کی تعداد اور سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پشاور میں گورنر ہاوس کے باہر طلبہ تنظیموں کے کارکنان بھی احتجاج میں شریک ہیں جبکہ کراچی اور لاہور میں خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں شہری دھرنے کا حصہ بن رہے ہیں۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کو اب عوامی مطالبات سنجیدگی سے سننا ہوں گے اور پیٹرولیم مصنوعات پر عائد اضافی بوجھ کم کرنا ہوگا،اگر حکمرانوں نے عوامی مطالبات کو نظرانداز کیا تو جماعت اسلامی احتجاجی تحریک کو مزید منظم اور وسیع کرے گی۔جماعت اسلامی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ موجودہ احتجاجی مرحلے کے بعد ملک گیر سطح پر مزید سرگرمیاں کی جائیں گی، جبکہ مطالبات پر پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کو لانگ مارچ سمیت دیگر مراحل تک لے جانے کے آپشن پر بھی عمل کیا جائے گا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز