اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان کی برطرفی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے لیے تاریخ مقرر کر دی ہے۔ جسٹس محمد آصف اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل بینچ جمعرات کو اس درخواست کی سماعت کریں گے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین میجرجنرل (ر) حفیظ الرحمان کی برطرفی کے خلاف قانونی لڑائی نے نیا موڑ اختیار کر لیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست کی سماعت جمعرات کو متوقع ہے اور ملک بھر کی نظریں اب اس اہم مقدمے پر جمی ہوئی ہیں۔ گزشتہ روز کے ہنگامی فیصلے کے بعد چیئرمین نے فوری طور پر عہدے سے ہٹائے جانے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل دائر کر دی، جس سے ٹیلی کمیونیکیشن ادارے میں سیاسی اور قانونی کشمکش مزید بڑھ گئی ہے۔ اس سماعت کا نتیجہ نہ صرف میجرجنرل (ر) حفیظ الرحمان کے مستقبل بلکہ پی ٹی اے کے قانونی دائرہ اختیار اور حکومتی اثر و رسوخ کے توازن کے لیے بھی فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے اپنے فیصلے میں چیئرمین پی ٹی اے میجرجنرل (ر) حفیظ الرحمان کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا تھا،جس کے بعد پاکستان کی ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی میں اعلیٰ سطح پر ہلچل مچ گئی۔فیصلے کے بعد میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں انٹراکورٹ اپیل دائر کی تاکہ اس فیصلے کو چیلنج کیا جا سکے۔ذرائع کے مطابق، چیئرمین پی ٹی اے کی برطرفی کے معاملے نے قانونی اور انتظامی حلقوں میں کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ برطرفی کا عمل غیر قانونی اور آئینی ضابطے کے خلاف ہے اور اسے فوری طور پر معطل کیا جانا چاہیے۔اس سے قبل عافیہ صدیقی کیس کی سماعت کے لیے بننے والا اسلام آباد ہائیکورٹ کا نیا بینچ بھی ٹوٹ گیا تھا، جس سے ہائیکورٹ میں بینچوں کے قیام اور درخواستوں کی سماعت کے عمل میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ اب چیئرمین پی ٹی اے کی برطرفی کے خلاف درخواست کی سماعت کے بعد یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا حفیظ الرحمان دوبارہ اپنے عہدے پر بحال ہوں گے یا نہیں۔ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یہ کیس نہ صرف پی ٹی اے کے مستقبل بلکہ ادارے کے آزادانہ فیصلوں اور حکومتی دائرہ اختیار کے توازن کے لیے بھی اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔سماعت کے نتیجے کے بعد ملک کی ٹیلی کمیونیکیشن پالیسی اور ادارے کی انتظامی کارکردگی پر بھی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔یہ کیس اب عوام،میڈیا اور قانون دانوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے اور اس کے فیصلے سے ادارے کی قانونی حدود اور حکومتی اثر و رسوخ کے حوالے سے اہم پیغام ملے گا۔
میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان کی برطرفی کے خلاف سماعت طے،قانونی کشمکش شدت اختیار کر گئی
11