واشنگٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)واشنگٹن میں اس وقت سنسنی اور خوف کی فضا پھیل گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپکی موجودگی میں وائٹ ہاوس کے باہر ایک نامعلوم مسلح شخص نے اچانک اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی،چند لمحوں میں ہی سیکیورٹی فورسز حرکت میں آئیں اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو ہلاک کر دیا جبکہ پورا علاقہ ہائی الرٹ کر دیا گیا،واقعے نے نہ صرف دارالحکومت کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھا دیے بلکہ امریکی ایوانِ صدر کے گرد خطرات کی سنگینی کو بھی ایک بار پھر بے نقاب کر دیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاوس کے قریب سیکیورٹی چوکی پر اس وقت شدید کشیدگی پھیل گئی جب ایک مسلح شخص نے اچانک فائرنگ شروع کر دی،جس کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو ہلاک کر دیا۔حکام کے مطابق واقعے کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ عمارت کے اندر موجود تھے تاہم وہ مکمل طور پر محفوظ رہے اور کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔
امریکی خفیہ ادارے کے مطابق حملہ آور نے شام کے وقت اپنے بیگ سے ہتھیار نکال کر اندھا دھند فائرنگ شروع کی،جس پر وہاں تعینات اہلکاروں نے فوری ردعمل دیا۔ ملزم کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے 21 سالہ نوجوان کی شناخت ناسائر بیسٹ کے نام سے ہوئی ہے،جو ماضی میں بھی وائٹ ہاوس کی سیکیورٹی توڑنے کی کوشش کے الزام میں گرفتار ہو چکا تھا۔عدالتی احکامات کے باوجود اس کا دوبارہ حساس علاقے میں داخل ہونا سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا رہا ہے۔واقعے کے دوران ایک عام شہری بھی گولی لگنے سے زخمی ہوا تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ گولی حملہ آور کی تھی یا جوابی کارروائی کے دوران لگی۔ فائرنگ کے بعد علاقے میں بھگدڑ مچ گئی جبکہ صحافیوں اور عملے کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔
امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے تصدیق کی کہ ادارے کے اہلکار موقع پر پہنچ چکے ہیں اور واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب حالیہ مہینوں کے دوران وائٹ ہاوس اور اس کے گردونواح میں سیکیورٹی خطرات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ ایک ماہ میں یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے، جس نے دارالحکومت واشنگٹن میں سیکیورٹی انتظامات پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔