دوحہ(ایگزو نیوز ڈیسک)قطر کے وزیر توانائی سعد شریدہ الکعبی نے خبردار کیا ہے کہ خلیج میں جاری کشیدگی عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے،اگر تیل اور گیس کے تمام برآمد کنندگان چند دنوں میں پیداوار بند کر دیں تو خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے،جس سے دنیا بھر میں توانائی اور اقتصادی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔موجودہ صورتحال میں برینٹ کروڈ کی قیمت 89.17 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے اور شپنگ راستوں میں رکاوٹوں کے باعث عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق قطر کے وزیر توانائی سعد شریدہ الکعبی نے” فنانشل ٹائمز“ سے سے گفتگو کرتے ہوئے عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے سنگین انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر خلیج کے تمام تیل اور گیس برآمد کنندگان چند دنوں میں پیداوار بند کر دیں تو عالمی توانائی کی مارکیٹ شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔اس سے خام تیل کی قیمتیں فی بیرل 150 ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ خلیج میں جاری تنازعات،جو توانائی کی ترسیل اور اہم شپنگ راستوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں،دنیا کی معیشتوں پر شدید منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں بلند ہوں گی اور پیداوار متاثر ہو گی،برینٹ کروڈ کی قیمت 89.17 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے،جو جمعرات کے اختتام کے مقابلے میں 4.4 فیصد اضافہ ہے۔اگر ہرمز کے تنگ سمندری راستے بند رہیں اور جہاز نقل و حرکت نہ کر سکیں تو چند ہفتوں میں خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ہر روز دنیا کے ایک پانچویں حصے کا تیل ہرمز کے راستے سے گزرتا ہے جبکہ موجودہ بحران میں تقریباً 200 ٹینکرز متاثر ہوئے ہیں اور 3,000 جہاز ماہانہ اس اہم راستے سے گزرتے ہیں۔متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے پاس کچھ پائپ لائنز موجود ہیں جو ہرمز کے راستے کے بغیر تیل کی ترسیل ممکن بناتی ہیں لیکن اگر خطرات جاری رہیں تو عالمی توانائی کی قیمتوں اور شپنگ پر دباو بڑھتا رہے گا۔قطر انرجی نے پہلے ہی اپنی ایل این جی (ایل این جی) پیداوار روک دی ہے اور کمپنی نے Force Majeure کا اعلان کیا،جس کے تحت کمپنی کسی غیر متوقع واقعے کی وجہ سے معاہدے کی شرائط پوری نہ کرنے کی ذمہ دار نہیں ہوگی۔
سعد شریدہ الکعبی نے مزید خبردار کیا کہ اگر جنگ جاری رہی تو دیگر تمام توانائی برآمد کنندگان کو بھی پیداوار روکنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل جنگ دنیا بھر میں جی ڈی پی کی ترقی کو متاثر کرے گی، توانائی کی قیمتیں بڑھیں گی، مصنوعات کی قلت ہوگی اور فیکٹریوں میں پیداوار رک جائے گی۔عالمی مارکیٹس میں تیل کی قیمتوں میں تیزی کے بعد سرمایہ کار توانائی کے مستقبل کے حوالے سے محتاط ہو گئے ہیں اور ماہرین مارکیٹ میں عدم استحکام کی توقع ظاہر کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ قطر نے پہلے ہی اپنی ایل این جی پیداوار عارضی طور پر روک دی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈی میں ہلچل پیدا ہوئی ہے اور سرمایہ کاروں کی تشویش بڑھ گئی ہے۔