تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)خلیجی خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر سنگین رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں ایران کی جانب سے امریکی ’ایم کیو نائن ریپر‘ ڈرون مار گرانے کے دعوے کے بعد صورتحال مزید بگڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکی حملوں کے ردعمل میں کی گئی، جبکہ کویت اور بحرین سمیت خطے کے مختلف حصوں میں امریکی اہداف پر حملوں کی اطلاعات نے سیکیورٹی خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔ دفاعی ماہرین اس پیش رفت کو خطے میں وسیع تر محاذ آرائی کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں،جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے،جہاں دونوں جانب سے فوجی کارروائیوں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ایرو اسپیس فورس نے جنوب مغربی شہر اہواز کے اوپر پرواز کرنے والے امریکی ’ایم کیو نائن ریپر‘ ڈرون کو جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا،جسے حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی عسکری محاذ آرائی کی ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی ان امریکی حملوں کے ردعمل میں کی گئی ہے جن میں ایران کے مطابق شہری اہداف اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ آٹھ روز کے دوران یہ چوتھا امریکی ’ریپر‘ ڈرون ہے جسے تباہ کیا گیا جبکہ مجموعی طور پر جنگ کے آغاز سے اب تک 150 سے زائد امریکی ڈرونز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے،جن میں تقریباً 30 جدید اور مہنگے ’ایم کیو نائن ریپر‘ ڈرونز شامل ہیں۔قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایک ’ایم کیو نائن ریپر‘ ڈرون کی اوسط قیمت تقریباً 3 کروڑ 40 لاکھ امریکی ڈالر ہے اور اگر ایران کے دعووں کو درست مانا جائے تو صرف ان ڈرونز کی تباہی سے امریکا کو ایک ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔یہ ڈرونز نہ صرف نگرانی بلکہ حملوں کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں اور جدید ترین بغیر پائلٹ طیاروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
ایران کے خاتم الانبیاءہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو ایرانی مسلح افواج اس سے بھی زیادہ سخت جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایران امریکا کو ایسے مقام تک لے جا سکتا ہے جہاں اس کے نقصانات ماضی کی کارروائیوں سے کہیں زیادہ ہوں گے۔دوسری جانب ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن ’تھنڈربولٹ‘ کے 16ویں اور 17ویں مراحل کے دوران کویت میں قائم دو اہم امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی بیان کے مطابق کیمپ ادیری میں واقع اسلحہ ڈپو اور علی السالم ایئر بیس پر نصب پیٹریاٹ اور فضائی نگرانی کے ریڈار سسٹمز کو خودکش ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اڈے خطے میں امریکی فوجی لاجسٹکس اور تعیناتی کے لیے نہایت اہم حیثیت رکھتے ہیں۔
کویتی حکام نے بھی ایک صنعتی و توانائی کے پلانٹ پر حملے کی تصدیق کی ہے،جہاں دو روز کے دوران دوسری بار آگ بھڑک اٹھی اور بجلی پیدا کرنے والے متعدد یونٹس متاثر ہوئے۔اگرچہ نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں تاہم واقعہ خطے میں بڑھتی غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔بحرین کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے متعدد میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے جبکہ ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم نے خوزستان میں زیرِ تعمیر دارخوین جوہری بجلی گھر پر حملوں کا بھی الزام عائد کیا ہے۔
ادھر امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ اردن کے موفق السلطی ایئربیس پر ایرانی حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک ہوئے،جس کے بعد اس جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی اہلکاروں کی تعداد 16 ہو گئی ہے جبکہ 420 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔علاقائی اور عالمی مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے اور اگر سفارتی کوششیں موثر نہ ہوئیں تو یہ تنازع ایک وسیع تر جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔