تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے،جہاں آبنائے ہرمز کے قریب پہنچنے کے بعد دو پاکستانی تیل بردار جہازوں کا راستہ اچانک تبدیل کر دیا گیا۔ بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے باعث دونوں جہازوں کو اپنی اصل منزلوں کی جانب پیش قدمی سے روک دیا گیا،جس کے بعد انہیں واپس موڑ کر متبادل راستوں کی تلاش شروع کر دی گئی ہے،جس سے خطے میں بحری سرگرمیوں اور تیل کی ترسیل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث دو پاکستانی تیل بردار جہازوں کو اچانک آگے بڑھنے سے روک کر واپس موڑ دیا گیا ہے،جس سے خطے میں بحری سرگرمیوں اور تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ایرانی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت ایک حساس وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سکیورٹی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے زیر انتظام دونوں جہاز،”شالامار“ اور ”خیرپور“، اپنی طے شدہ منزلوں کویت اور متحدہ عرب امارات کے لیے روانہ ہوئے تھے اور آبنائے ہرمز تک پہنچ چکے تھے تاہم انہیں وہاں داخل ہونے کے بعد آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اطلاعات کے مطابق نامعلوم یا ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر متعلقہ حکام کی جانب سے احکامات جاری کیے گئے،جس کے بعد دونوں جہازوں کا رخ فوری طور پر خلیج عمان کی جانب موڑ دیا گیا۔یہ جہاز کویت اور متحدہ عرب امارات سے بڑی مقدار میں خام تیل لوڈ کرنے کے لیے جا رہے تھے تاہم موجودہ صورتحال کے باعث ان کے شیڈول میں غیر یقینی پیدا ہو گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اب یہ جہاز متبادل طور پر فجیرہ یا ینبوع کی بندرگاہوں کا رخ کر سکتے ہیں تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ اس طرح کے واقعات نہ صرف بحری تجارت کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عالمی تیل کی سپلائی چین پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں،یہ پیش رفت خطے میں جاری کشیدگی،خاص طور پر آبنائے ہرمز میں بڑھتی نگرانی اور سکیورٹی اقدامات کے تناظر میں سامنے آئی ہے،جس کے باعث بین الاقوامی بحری راستے دباو کا شکار ہو رہے ہیں۔صورتحال کی مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد اس کے ممکنہ اثرات کا اندازہ بہتر طور پر لگایا جا سکے گا۔