کراچی(ایگزو نیوز ڈیسک)کراچی کی اہم شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک سانحہ کی بتدائی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ آتشزدگی کی وجہ محض حادثہ نہیں بلکہ انتظامی غفلت اور حفاظتی نظام کی شدید خامیاں ہیں۔سرچ آپریشن کے دوران برآمد شدہ ڈی وی آر فوٹیجز، شواہد اور متاثرین کے بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عمارت میں حفاظتی انتظامات ناکافی تھے اور ریسکیو اداروں کی مربوط حکمت عملی بھی بروقت نہیں رہی۔سانحے میں 67 انسانی لاشیں اور متعدد زخمی شامل ہیں جبکہ متاثرہ دکانداروں اور عام شہریوں کو ہونے والے جانی و مالی نقصانات کا حجم خوفناک ہے۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق آگ کی ابتدا لائٹر کے استعمال سے ہوئی اور عمارت میں داخلی و خارجی راستے محدود ہونے کی وجہ سے ریسکیو میں مشکلات پیش آئیں،جس نے سانحے کی شدت میں اضافہ کیا۔یہ رپورٹ انتظامیہ کی ناکامی،حفاظتی خامیوں اور ریسکیو کے غیر موثر اقدامات کی قلعی کھولتی ہے اور مستقبل میں ایسے سانحات سے بچاو کے لیے فوری اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق کراچی کے اہم علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک آگ لگنے کے واقعے کی ابتدائی رپورٹ منظر عام پر آ گئی ہے۔ذرائع کے مطابق رپورٹ کے پہلے حصے میں آگ لگنے کی وجوہات اور حفاظتی خامیوں کی تفصیلات شامل ہیں۔ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آگ کاغذ کے پھولوں کی دکان میں لائٹر کے استعمال سے لگی۔عمارت میں سرچ آپریشن کے دوران اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم نے تین ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈرز(ڈی وی آرز) برآمد کیے جو مسجد کے اطراف کے کمروں سے حاصل ہوئے۔ان فوٹیجز کے ذریعے نہ صرف آگ کے آغاز کی صحیح جگہ کا تعین ممکن ہو گا بلکہ عمارت میں موجود حفاظتی انتظامات اور افراد کی نقل و حرکت کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق ڈی وی آر میں محفوظ فوٹیج سے یہ بھی معلوم ہو سکے گا کہ کون لوگ واقعے سے پہلے عمارت میں داخل اور بعد میں باہر نکلے۔
ابتدائی رپورٹ میں ریسکیو اداروں کی مربوط حکمت عملی نہ ہونے،فائر بریگیڈ میں مستقل چیف فائر آفیسر نہ ہونے اور انسانی باقیات تلاش کرنے والے تربیت یافتہ کتوں کے غائب ہونے کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔گزشتہ ایک سال سے کراچی فائر بریگیڈ بغیر مستقل چیف کے چل رہی تھی جبکہ عدالت نے تین ماہ کے اندر تعیناتی کا حکم دیا تھا،جسے میئر کراچی اور کے ایم سی نے نظر انداز کیا۔رپورٹ کے مطابق تکنیکی اور فارنزک ماہرین اب DVRs اور دیگر شواہد کا تفصیلی معائنہ کریں گے تاکہ آگ لگنے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔دریں اثنا، سندھ حکومت نے متاثرہ دکان داروں کی بحالی کے لیے ابتدائی منصوبہ تیار کر لیا ہے،جس کے تحت ہر دکان دار کو پانچ لاکھ روپے دیے جائیں گے اور دکانیں از سر نو تعمیر کی جائیں گی۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پہلے مرحلے میں شہداء کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے فی کس دینے کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔گل پلازہ واقعہ نے کراچی کی ایمرجنسی اور فائر سیفٹی کے نظام میں سنگین خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے، جبکہ ابتدائی رپورٹ نے انتظامی غفلت، حفاظتی انتظامات کی کمی اور ذمہ داری کے تقاضوں پر سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔