کراچی(ایگزو نیوز ڈیسک)کراچی کی اہم شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والا سانحہ ایک انسانی المیہ میں تبدیل ہو گیا ہے،جہاں اب تک عمارت کے ملبے سے 67 لاشیں اور انسانی باقیات برآمد ہو چکی ہیں،ابتدائی تحقیقات نے حیران کن اور خوفناک حقائق سامنے لائے ہیں،جن میں آگ کے آغاز کے ممکنہ اسباب، اندرونی دروازوں کی بندش اور زخمی و جلی ہوئی باقیات سے ڈی این اے سیمپلز کے ذریعے شناختی عمل شامل ہے،پوسٹ مارٹم اور شناخت کے مراحل جاری ہیں جبکہ تحقیقاتی ٹیمیں آگ کے پھیلاو اور انسانی جانوں کے نقصان کے اسباب کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں،جس سے یہ واقعہ کراچی کے تاریخ کے سب سے مہلک تجارتی حادثات میں شامل ہو چکا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق کراچی کی مرکزی شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک سانحے کے بعد جاری سرچ آپریشن کے دوران ایک دکان سے مزید دو انسانی باقیات برآمد کر لی گئی ہیں،جس کے بعد عمارت کے ملبے سے ملنے والی لاشوں اور انسانی باقیات کی مجموعی تعداد 67 تک پہنچ گئی ہے،اب تک 62 لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کیا جا چکا ہے۔سانحہ کے بعد جاں بحق افراد کی شناخت کے لیے لاشوں اور باقیات سے ڈی این اے سیمپلز لینے کا عمل جاری ہے اور آج مزید دو افراد کی شناخت ہو گئی،جس کے بعد شناخت کیے جانے والے افراد کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔ایک لاش کی شناخت دکان کے مالک ابوبکر کے نام سے ہوئی، جس کی تصدیق ان کے بیٹے تاج نے ہاتھ میں موجود انگوٹھی اور گھڑی کی مدد سے کی۔دوسری لاش کی شناخت دکان کے ملازم عامر کے نام سے ہوئی،جس کی تصدیق ڈیسک سی پی ایل سی نے کی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق آج مزید 5 انسانی باقیات کے ڈی این اے سیمپلز لیے گئے اور مجموعی طور پر آج 17 سیمپلز حاصل کیے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ انسانی باقیات جلی ہوئی ہیں،جس کی وجہ سے نمونے لینے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔اب تک نکالی جانے والی 67 لاشوں اور باقیات میں سے 62 کا پوسٹ مارٹم مکمل ہو چکا ہے۔تحقیقاتی حکام کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گل پلازہ میں آگ کسی شارٹ سرکٹ کے باعث نہیں لگی بلکہ ممکنہ طور پر ماچس یا لائٹر سے بھڑکی۔رپورٹ کے مطابق آرٹیفیشل دکان کے مالک کے دو بیٹے ماچس سے کھیل رہے تھے،ایک نے آگ کی تیلی پھینکی جو نیچے گری جہاں کیمیکل موجود تھا اور آگ بھڑک اٹھی۔فوری طور پر آگ پر قابو پایا گیا مگر یہ دوبارہ بھڑک گئی اور اے سی کی لائن میں جا لگی،جس کے بعد آگ نے پورے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق حادثے کے وقت اکثر دروازے بند تھے اور آمد و رفت کے لیے صرف دو دروازے کھلے تھے۔آگ لگنے کے دوران اندر پھنسے افراد نے دروازہ توڑ کر باہر نکلنے کی کوشش کی۔بم ڈسپوزل سکواڈ نے دو مختلف مقامات سے نمونے جمع کیے،تین نمونے مصنوعی پھولوں کی دکان سے اور تین نمونے پلازہ کے دیگر مقامات سے حاصل کیے گئے۔تفتیش کے دوران یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ لاشوں اور انسانی باقیات کا کیمیائی تجزیہ کروایا جائے گا تا کہ مختلف اعضا پر موجود زخموں اور شواہد کی جانچ کی جا سکے۔ادھر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) اور پاکستان انجینئرنگ کونسل نے آگ سے متاثرہ گل پلازہ کو مخدوش قرار دے دیا۔ایس بی سی اے کے مطابق پلازہ 8124 گز پر محیط ہے اور اس میں 1102 دکانیں موجود ہیں۔ہفتے کی شب لگنے والی آگ نے پورے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ایس بی سی اے نے متصل عمارتوں کا بھی معائنہ کیا اور تکنیکی کمیٹی نے سفارش کی کہ ریسکیو آپریشن کے بعد پلازہ کو منہدم کر دیا جائے۔چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے اس واقعے میں غفلت کے سبب میونسپل کمشنر کراچی افضل زیدی کو ہٹاتے ہوئے گریڈ 19 کی سمیرا حسین کو اضافی چارج دے دیا۔