اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) عمران خان کی صحت حکومت کی ترجیح ہے اور اگر انہیں علاج کیلئے بیرونِ ملک بھیجنے کی ضرورت پیش آئی تو اس حوالے سے بھی حکومت رکاوٹ نہیں بنے گی،سیاست کے اندر دشمنی تحریک انصاف لے کر آئی تھی،ہم نے ہمیشہ برداشت اور رواداری کی بات کی ہے،ہم اس سوچ پر بھی لعنت بھیجتے ہیں کہ عمران خان کو نقصان پہنچایا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کو عمران خان سے کوئی ذاتی عناد یا دشمنی نہیں اور ان کی طبی سہولیات قانون کے مطابق یقینی بنائی جا رہی ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر عمران خان کا طبی معائنہ حکومت اپنے طور پر کرواتی ہے تو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز) میں ہو گا تاہم اگر وہ الشفاء آئی ٹرسٹ ہسپتال میں علاج کروانا چاہتے ہیں تو حکومت کو اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے معاملے پر ماہرین ہی حتمی رائے دے سکتے ہیں اور انہی کی تشخیص کی بنیاد پر آئندہ علاج یا بیرونِ ملک منتقلی کا فیصلہ کیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان کی میڈیکل رپورٹس ایک سے زائد ہیں،ایک رپورٹ پمز کے ماہرین چشم نے تیار کی جس کے مطابق علاج کے بعد آنکھ کی حالت بہتر ہے جبکہ سلمان صفدر کی رپورٹ کو انہوں نے میڈیکل رپورٹ کے بجائے وکیل کی جانب سے پیش کی گئی شکایت قرار دیا،ماہر ڈاکٹروں کی رائے سے ہی یہ تعین ہو سکتا ہے کہ آنکھ کا مسئلہ مکمل طور پر قابل علاج ہے یا نہیں۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ عمران خان کا باقاعدہ میڈیکل چیک اپ ہوتا ہے،ان کا بلڈ پریشر اور دیگر طبی معائنے معمول کے مطابق کیے جاتے ہیں،ان کی شکایت پر ہی انہیں پمز منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج بھی کیا گیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں وہ تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جو قانون کے مطابق کسی بھی ہائی پروفائل قیدی کو دی جا سکتی ہیں۔انہوں نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صحت جیسے سنجیدہ معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے،پی ٹی آئی قیادت ایسے بیانات دے رہی ہے جو حقائق کے برعکس ہیں حتیٰ کہ قتل جیسے الزامات تک بات لے جائی جا رہی ہے،جو نامناسب ہے،حکومت ایسی سوچ کی مذمت کرتی ہے اور عمران خان کو نقصان پہنچانے کے کسی تصور کو بھی مسترد کرتی ہے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں قانون کے مطابق ادا کر رہے ہیں اور عمران خان کے روزمرہ معمولات،خوراک اور دیگر سہولیات سے متعلق کئی غلط فہمیاں دور ہو چکی ہیں۔ان کے مطابق عمران خان کو وہ مراعات حاصل ہیں جو عام قیدیوں کو میسر نہیں ہوتیں،اس لیے بے بنیاد تاثر پھیلانے کے بجائے زمینی حقائق کو دیکھا جانا چاہیے۔