لندن(ایگزو نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان نے کہا ہے کہ کوئی بھی حکومت اپنے عوام سے زیادہ طاقتور نہیں ہوسکتی،پاکستانی عوام کے سامنے اب اپنے سیاسی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے پرامن احتجاج کا راستہ موجود ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں قاسم خان نے کہا کہ پاکستان کے عوام کے پاس اب بہت کم راستے رہ گئے ہیں۔ ان کے مطابق ایک راستہ یہ ہے کہ وہ اپنے منتخب رہنما کی گرفتاری،ان کے خاندان کی حراست،سیاسی جماعت کے خلاف اقدامات اور انصاف سے محرومی پر خاموش رہیں، جبکہ دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ پرامن طور پر باہر نکل کر احتجاج کے اپنے بنیادی حق کا استعمال کریں۔قاسم خان نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ کسی کے اہلخانہ کو گرفتار کیا جاسکتا ہے اور لوگوں کو تشدد کی دھمکیاں بھی دی جاسکتی ہیں تاہم 25 کروڑ پاکستانیوں کو قید نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ایک پوری نسل کی آواز کو دبایا جا سکتا ہے،کوئی بھی حکومت اپنی عوام سے زیادہ طاقتور نہیں ہو سکتی۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو یہ دیکھنا چاہیے کہ پاکستانی عوام مبینہ دھمکیوں کے باوجود انصاف کے حصول کے لیے متحد ہوکر اپنی آواز بلند کررہے ہیں،پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ ان لوگوں کی جانب سے نہیں ہو گا جو خوف کے ذریعے حکمرانی کرنا چاہتے ہیں بلکہ ملک کے مستقبل کا فیصلہ عوام کریں گے۔
قاسم خان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور اپنے دیگر مطالبات کے حق میں 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔پی ٹی آئی کی قیادت نے حالیہ بیانات میں مارچ کو پرامن رکھنے اور آئینی و جمہوری دائرے میں احتجاج کرنے کا موقف اختیار کیا ہے۔خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی 27 ستمبر کے لانگ مارچ کا اعلان برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج پرامن ہو گا۔ان کے مطابق پی ٹی آئی نے سیاسی اور آئینی راستے اختیار کرنے کے بعد احتجاج کا فیصلہ کیا ہے جبکہ مارچ کی مزید تفصیلات 25 ستمبر کو سامنے لانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
دوسری جانب وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے احتجاج کو روکنے اور شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مختلف اقدامات شروع کیے ہیں۔تازہ رپورٹس کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی کے اہم داخلی و خارجی راستوں پر کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں رکھنے کی تیاری کی گئی ہے تاکہ احتجاجی قافلوں کی نقل و حرکت کو محدود کیا جاسکے۔اس سے قبل پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی کارروائی ہوچکی ہے۔عدالت نے قرار دیا تھا کہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو سڑکوں،شاہراہوں یا دیگر عوامی مقامات پر قبضے کا قانونی حق حاصل نہیں جبکہ صوبائی وزرائے اعلیٰ کو احتجاج کے لیے ریاستی مشینری استعمال نہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر بھی واضح کرچکے ہیں کہ پارٹی اسلام آباد کی جانب مارچ کرے گی تاہم ان کے مطابق قانون کی بالادستی اور آئین کی پاسداری کو برقرار رکھا جائے گا۔انہوں نے احتجاج کے دوران پرامن طرز عمل پر زور دیا ہے۔
ادھر پی ٹی آئی کی جانب سے کارکنوں کی گرفتاریوں اور پارٹی رہنماوں کے خلاف کارروائیوں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔حالیہ دنوں میں عمران خان کی بہن علیمہ خان سمیت پارٹی سے وابستہ بعض افراد کی گرفتاریوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں،جنہیں پی ٹی آئی نے سیاسی دباو سے تعبیر کیا ہے جبکہ حکومتی موقف میں احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔یوں 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ سے قبل سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ایک طرف پی ٹی آئی اپنی قیادت کے مطابق احتجاج کو پرامن اور آئینی حق قرار دیتے ہوئے مارچ پر قائم ہے جبکہ دوسری جانب انتظامیہ اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی اور راستوں کی نگرانی کے اقدامات کررہی ہے۔قاسم خان کا تازہ بیان بھی اسی سیاسی تناظر میں سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے عوام سے پرامن طور پر اپنے حقِ احتجاج کے استعمال کی بات کی ہے۔