اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان اور مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کے صدر انجینئر امیر مقام نے آزاد کشمیر میں جاری انتخابی عمل کے دوران پیپلز پارٹی کی جانب سے لگائے گئے دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں قبل از وقت اور غیر سنجیدہ قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں وزیراعظم،حکومتی ڈھانچہ اور انتظامی مشینری خود پیپلز پارٹی کے پاس ہے،ایسے میں مسلم لیگ ن پر الزامات عائد کرنا حقائق کے منافی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اپنے بیان میں امیر مقام نے کہا کہ ووٹوں کی گنتی سے قبل ہی الزامات کی بوچھاڑ کرنا سیاسی غیر ذمہ داری کا مظہر ہے اور اس سے انتخابی ماحول متاثر ہو سکتا ہے۔انہوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت اور وزراءکے بیانات کو غیر محتاط قرار دیتے ہوئے کہا کہ بغیر ثبوت کے الزامات لگانا جمہوری عمل کو نقصان پہنچاتا ہے۔انہوں نے فتح پور تکیال میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں مسلم لیگ ن کا ایک کارکن زخمی ہوا جبکہ اس سے قبل انتخابی مہم کے دوران اسی علاقے میں فائرنگ کے نتیجے میں پارٹی کے مقامی رہنما ملک عاشق حسین جاں بحق ہو چکے ہیں۔ان کے مطابق ایسے واقعات پورے انتخابی عمل پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔
امیر مقام نے زور دیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے الزام تراشی سے گریز کرنا چاہیے،کیونکہ ابھی انتخابی نتائج کا مرحلہ باقی ہے اور اس دوران غیر ذمہ دارانہ بیانات سے کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران عوام کے سامنے اپنی کارکردگی،ترقیاتی منصوبوں اور آئندہ کے لائحہ عمل کو پیش کیا،جس میں پارٹی قائد میاں محمد نواز شریف سمیت دیگر قیادت نے بھرپور حصہ لیا۔ان کے مطابق پارٹی ایک مضبوط اور متحرک ٹیم کے ساتھ میدان میں ہے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ تمام تر حکومتی وسائل کے باوجود پیپلز پارٹی کی جانب سے قبل از وقت الزامات لگانا افسوسناک ہے اور یہ رویہ سیاسی سنجیدگی کے تقاضوں کے منافی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جمہوری عمل کے تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کریں اور نتائج کا انتظار کریں۔