اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس نے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے استعفے کے معاملے پر سخت الفاظ میں تنقید کی اور کہا ہے کہ گورنر کا روّیہ، جو بظاہر وفاقی دباو یا ہدایت کے تحت اختیار کیا گیا، صریحاً آئینی حدود کی خلاف ورزی اور بدنیتی پر مبنی ہے، صوبائی امور میں بلاجواز مداخلت سیاسی و آئینی استحکام کے لیے خطرناک اور عوامی مینڈیٹ کی کھلم کھلا توہین کے مترادف ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اپنے بیان میں سینیٹر راجا ناصر عباس نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 130(8) کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ کا ہاتھ سے دیا گیا استعفیٰ گورنر کو موصول ہوتے ہی فوراً موثر ہو جاتا ہے اور اس کے لیے کسی قسم کی منظوری،اضافی جانچ یا سیاسی مداخلت کی ضرورت نہیں ہوتی،یہ ایک طے شدہ قانونی اصول ہے اور اس کا بغور احترام لازمی ہے لہٰذا گنڈاپور کا استعفیٰ ایک یکطرفہ عمل کے طور پر قابل قبول شمار کیا جانا چاہیے۔علامہ راجا ناصر عباس نے الزام عائد کیا کہ گورنر کی جانب سے ” تفصیلی جانچ پڑتال “ اور ” قانونی تقاضوں “ کی دہائی دراصل وقت ضائع کرنے اور سیاسی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی دانستہ کوشش ہے،جو وفاقی سرپرستوں کے اشارے پر کی جا رہی ہے تا کہ پی ٹی آئی کے صوبائی مینڈیٹ کو کمزور کیا جا سکے،اس طرزِ عمل کا مقصد صوبائی حکومت کو غیر مستحکم کرنا اور جمہوری عمل کو متاثر کرنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے پی ٹی آئی کو واضح اکثریت دے کر اپنا مینڈیٹ سونپا ہے،اس لیے کسی بھی قوت کی جانب سے اس مینڈیٹ کو سلب کرنے کی کوشش نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ ملک کے سیاسی توازن کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات سے پورے ملک میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگا اور عدالتی و آئینی تقاضوں کے حصول کے لیے تحریکیں شروع ہو سکتی ہیں۔
علامہ راجا ناصر عباس نے مطالبہ کیا کہ گورنر آئین کے مطابق فوری طور پر دستاویزی ثبوت،موصولہ استعفیٰ اور قانونی طریق کار کی تفصیل شفاف انداز میں پیش کریں تا کہ معاملہ کسی سیاسی سازش کے دائرے سے نکل کر شفاف قانونی فرائض کے تحت حل ہو،اگر آئینی حقوق اور عوامی مینڈیٹ کی پامالی ثابت ہوئی تو متعلقہ اداروں کو فوری طور پر اقدام کرنا چاہئے اور متاثرہ جماعت کو اپنا جمہوری حق واپس دلایا جائے۔قانونی ماہرین کے حوالے سے علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ آئینی شقیں واضح ہیں اور کسی بھی حکومتی نمائندے کو سیاسی موقف کے تحت ان کی تشریح یا تاویل کا حق حاصل نہیں،اس معاملے میں عدالتی تشخیص تیزی سے عمل میں لائی جائے تا کہ آئینی تقاضے واضح ہوں اور آئندہ کے لیے ایک واضح پریکٹس مرتب ہو۔اس موقع پر علامہ راجا ناصر عباس نے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ پارٹی پالیسی یا ذاتی مفادات کی بجائے آئین اور عوامی مفاد کو مقدم رکھیں،سیاسی اختلافات آئینی دائرے میں حل کئے جائیں،بصورتِ دیگر ملک کو خطرناک سیاسی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔