اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو نجی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے حکم پر نظرثانی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا ہے کہ حکومت عدالتی حکم کے ان پہلووں کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہے جن کا تعلق جیل انتظامیہ اور اسلام آباد انتظامیہ سے ہے اور قانونی ٹیم کی مشاورت کے بعد عدالت عظمیٰ سے مناسب ترمیم کی درخواست کی جائے گی۔
ایگزو نیوزکے مطابق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ حکومت کی مجوزہ درخواست میں یہ استدعا کی جائے گی کہ عمران خان کا طبی معائنہ اور علاج کسی سرکاری یا ٹرژری کیئر ہسپتال میں کرایا جائے جبکہ ضرورت پڑنے پر دیگر بڑے طبی اداروں کے ماہرین کو بھی میڈیکل بورڈ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔وزیر قانون نے موقف اختیار کیا کہ موجودہ عدالتی حکم کے بعض حصوں کو جیل قوانین اور قیدیوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے قانونی فریم ورک کے تناظر میں مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔وزیر قانون نے کہا کہ حکومت کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر ایک قیدی کو نجی ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے تو ملک کی جیلوں میں موجود دیگر قیدیوں کے لیے اس اصول کا اطلاق کس انداز میں ہو گا؟ قانون کے تحت پہلے طبی ماہرین یا متعلقہ میڈیکل بورڈ یہ طے کرتا ہے کہ قیدی کا مطلوبہ علاج جیل کے اندر ممکن ہے یا اسے باہر کسی ہسپتال منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر طبی طور پر جیل سے باہر علاج ناگزیر قرار پائے تو عمومی طور پر سرکاری ہسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے جبکہ کسی نجی طبی ادارے کی ضرورت ثابت ہونے کے لیے متعلقہ طبی حالات اور دستیاب سہولیات کو مدنظر رکھا جاتا ہے،حکومت کا کہنا ہے کہ اسی قانونی اور انتظامی ابہام کو دور کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے نظرثانی مانگی جارہی ہے۔
اعظم نذیر تارڑ کے مطابق حکومت اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مختلف حصوں کا دائرہ کار کیا ہے اور آیا یہ اصول تمام زیرحراست یا سزا یافتہ قیدیوں پر یکساں طور پر لاگو ہو گا یا موجودہ معاملہ صرف عمران خان کی مخصوص طبی صورتحال تک محدود رہے گا۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ ملک کی جیلوں میں متعدد قیدی مختلف بیماریوں اور طبی مسائل کا سامنا کررہے ہیں،اس لیے عدالتی حکم کے انتظامی اور قانونی اثرات کو وسیع تناظر میں دیکھنا ضروری ہے،حکومت قانون کے تحت موجود طریقہ کار اور تمام متعلقہ پہلووں کو سامنے رکھ کر عدالت سے رجوع کرے گی۔
یاد رہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی جانب سے 18 اگست 2026 کو عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے حکم کے بعد سامنے آیا ہے۔عدالت نے ان کی صحت، خصوصاً طبی معائنے اور علاج کے لیے نجی ہسپتال منتقلی کی ہدایت کی تھی جبکہ انہیں 16 ستمبر تک ہسپتال میں رکھنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔سپریم کورٹ نے عمران خان کے لیے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور ان کے طبی علاج کی نگرانی کا بھی حکم دیا تھا۔عدالت نے ان کی صحت سے متعلق خدشات کے پیش نظر طبی ریکارڈ اور ماہرین کی رائے کو اہم قرار دیتے ہوئے علاج کو سیاسی تنازع سے الگ رکھنے پر زور دیا تھا۔حکومت کی نظرثانی درخواست کا مقصد عدالتی حکم کو مکمل طور پر ختم کرانا نہیں بلکہ اس کے طریقہ کار اور طبی منتقلی کے انتظامات میں مناسب ترمیم طلب کرنا بتایا جارہا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ کے مطابق حکومت عدالت سے یہ وضاحت حاصل کرنا چاہتی ہے کہ علاج کے لیے کون سا طبی ادارہ قانونی اور انتظامی تقاضوں کے مطابق موزوں ہوگا۔وفاقی وزیر قانون نے اس امر پر زور دیا کہ حکومت عدالتی احکامات کا احترام کرتی ہے تاہم اگر کسی فیصلے میں انتظامی یا قانونی ابہام موجود ہو تو متعلقہ فریق کو نظرثانی یا مناسب وضاحت کے لیے عدالت سے رجوع کا حق حاصل ہے۔حکومت کے تازہ فیصلے سے عمران خان کی طبی منتقلی کا معاملہ ایک نئے قانونی مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔اب سپریم کورٹ کے سامنے یہ سوال بھی ہوگا کہ عمران خان کے علاج کے لیے نجی ہسپتال کی منتقلی سے متعلق عدالتی ہدایت کو برقرار رکھا جائے،اس میں ترمیم کی جائے یا طبی انتظامات کے حوالے سے کوئی متبادل طریقہ کار اختیار کیا جائے۔
دوسری جانب عمران خان کے وکلا اور پاکستان تحریک انصاف پہلے ہی سپریم کورٹ کے حکم کا خیرمقدم کرچکے ہیں جبکہ حکومتی نظرثانی درخواست کے بعد معاملہ دوبارہ عدالت عظمیٰ کے سامنے آنے کا امکان ہے۔یوں عمران خان کی صحت اور علاج سے متعلق عدالتی حکم پر حکومت کے نظرثانی فیصلے نے ایک طرف طبی اور قانونی پہلووں کو نمایاں کیا ہے تو دوسری جانب اس معاملے کے سیاسی اثرات بھی برقرار ہیں۔اب آئندہ پیش رفت کا مرکز سپریم کورٹ میں حکومت کی نظرثانی درخواست اور اس پر عدالت کے ممکنہ حکم کو قرار دیا جارہا ہے۔