Home » مذاکرات کی میز پر حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے،عمران خان کے علاج و رہائی کا مطالبہ،لانگ مارچ واپس لینے پر اصرار

مذاکرات کی میز پر حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے،عمران خان کے علاج و رہائی کا مطالبہ،لانگ مارچ واپس لینے پر اصرار

by ahmedportugal
16 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی کم کرنے اور موجودہ بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے چیمبر میں جاری ہے،جہاں دونوں جانب سے اپنے اپنے مطالبات اور موقف سامنے رکھ دیے گئے ہیں۔مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے اور حکومت نے موجودہ سیاسی و سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اس احتجاج پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق مذاکرات کے دوران اپوزیشن کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے فوری اور مکمل طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ سامنے رکھا گیا جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے ان کی رہائی،ان کی بہنوں اور گرفتار ارکان اسمبلی کی رہائی سمیت دیگر سیاسی مطالبات بھی پیش کیے گئے۔دوسری جانب حکومتی وفد نے اپوزیشن سے اسلام آباد کی جانب اعلان کردہ لانگ مارچ کی کال واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے مذاکرات میں حکومت اور اپوزیشن کے نمائندے شریک ہیں۔حکومتی وفد میں وفاقی وزرا محسن نقوی اور امیر مقام،وزیراعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ،طلال چوہدری اور طارق فضل چوہدری کے علاوہ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان،نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی شامل ہیں جبکہ اپوزیشن کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر،سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس،سابق سپیکر اسد قیصر،عامر ڈوگر،محمود خان اچکزئی اور سلمان اکرم راجہ سمیت دیگر رہنما شریک ہیں۔مذاکرات کے دوران نماز جمعہ کے لیے مختصر وقفہ بھی کیا گیا،جس کے بعد بات چیت دوبارہ شروع ہوئی۔پارلیمنٹ کی مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے موقع پر ملک میں سیاسی کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کی کامیابی کے لیے دعا بھی کی گئی۔

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے مذاکرات کے آغاز پر واضح کیا کہ وہ اس عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں، اختلاف رائے اور مسائل کے حل کا راستہ بات چیت سے ہی نکلتا ہے اور پارلیمان وہ فورم ہے جہاں سیاسی معاملات کو گفت و شنید کے ذریعے آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔انہوں نے مذاکرات کی کامیابی کے لیے دعا بھی کی۔ذرائع کے مطابق نماز جمعہ کے وقفے کے دوران حکومتی وفد نے عمران خان کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کرنے کے اپوزیشن کے مطالبے پر الگ سے مشاورت کی جبکہ اپوزیشن ارکان نے بھی اپنے درمیان مذاکراتی حکمت عملی اور آئندہ کے مطالبات پر غور کیا۔مذاکرات سے قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے سپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کی۔ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال،امن و امان اور حکومت و اپوزیشن کے مذاکراتی عمل سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔بعد ازاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مذاکراتی وفود کو خیبرپختونخوا میں امن و امان اور دہشت گردی کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ بھی دی۔

تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ ہاوس پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات صرف رسمی کارروائی یا ملاقاتوں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں بلکہ ان سے عملی پیش رفت ہونی چاہیے۔انہوں نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے امکانات کو بھی مسئلے کا حل قرار دینے سے گریز کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کی کامیابی کو اہم قرار دیا۔سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے بھی مذاکرات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بڑے بحرانوں اور حتیٰ کہ جنگوں کے حل کے لیے بھی بات چیت کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے،موجودہ سیاسی اور معاشی بحرانوں کے خاتمے کے لیے حکومت کو سنجیدگی کے ساتھ بات چیت آگے بڑھانا ہوگی۔لانگ مارچ کے معاملے پر اپوزیشن کی جانب سے واضح کیا گیا کہ احتجاج کی کال برقرار ہے اور اس میں تبدیلی یا واپسی کا فیصلہ کسی قابل قبول حل سے مشروط ہو گا۔

دوسری جانب حکومتی نمائندوں نے مذاکراتی میز پر بنیادی مطالبات میں لانگ مارچ کی کال واپس لینے کو شامل کیا ہے۔پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کی سابقہ تاریخ تبدیل کرکے 4 اکتوبر کو پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔وزیراعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ عدالتوں سے متعلق معاملات کا فیصلہ عدالتوں ہی کے ذریعے ہو گا جبکہ سیاسی معاملات سیاسی قیادت کے درمیان بیٹھ کر طے کیے جاسکتے ہیں۔انہوں نے سیاسی معاملات میں بات چیت اور سیاسی رواداری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کو مذاکرات سے کوئی جھجک نہیں اور سیاسی مسائل کا حل بات چیت سے نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے،سیاسی جماعتوں کو ایسے طرز عمل سے گریز کرنا چاہیے جس کے نتیجے میں مسائل مزید پیچیدہ ہوں۔وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے اور حکومت کے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ سیاسی راستہ اختیار کرے اور اسلام آباد کی جانب مارچ سے گریز کرے۔ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے صوبائی حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

مذاکرات کے موجودہ مرحلے کا ایک اہم پس منظر خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال اور وفاق و صوبے کے درمیان سیاسی کشیدگی بھی ہے۔اپوزیشن اتحاد نے یکم اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں لانگ مارچ کے علاوہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی سے متعلق خبروں پر بھی غور کیا تھا تاہم مذاکرات کا آپشن برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا۔دوسری جانب پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے یکم اکتوبر کو 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کی منظوری دی تھی۔دستیاب اطلاعات کے مطابق پارٹی قیادت نے ممکنہ وفاقی اقدامات کی صورت میں قانونی راستہ اختیار کرنے پر بھی غور کیا ہے۔یوں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان موجودہ مذاکرات ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں جہاں ایک جانب تحریک انصاف عمران خان کے علاج،رہائی اور دیگر سیاسی مطالبات کو اہم قرار دے رہی ہے جبکہ حکومت لانگ مارچ کی واپسی اور سیاسی کشیدگی کم کرنے پر زور دے رہی ہے۔مذاکرات کے نتیجے میں دونوں جانب سے کسی قابل قبول فارمولے پر اتفاق ہوتا ہے یا نہیں،اس کا انحصار آئندہ نشستوں میں مطالبات اور ان پر ہونے والی پیش رفت پر ہو گا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز