اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)حکومت نے پیٹرول سبسڈی کے حوالے سے نئی پالیسی واضح کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ہر موٹر سائیکل سوار اس سہولت کا اہل نہیں ہوگا بلکہ صرف مستحق افراد کو ہی سبسڈی دی جائے گی۔مشیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق مستحقین کی نشاندہی جدید ڈیٹا اور مخصوص طریقہ کار کے تحت کی جائے گی تاکہ سبسڈی کا فائدہ حقیقی ضرورت مند طبقے تک محدود رکھا جا سکے۔
ایگزو نیوز کے مطابق مشیر خزانہ خرم شہزاد نے واضح کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے مجوزہ پیٹرول سبسڈی تمام موٹرسائیکل سواروں کو نہیں دی جائے گی بلکہ صرف مستحق افراد کو اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان جاری ہے اور پاکستان بھی اس سے متاثر ہوا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے قیمتوں میں اضافے سے قبل جنگ کے خاتمے کا انتظار کیا تاہم صورتحال برقرار رہنے پر یہ فیصلہ ناگزیر ہو گیا۔خرم شہزاد نے بتایا کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کے باعث عالمی مارکیٹ میں بھی اثرات مرتب ہوئے تاہم محدود وسائل کے باوجود حکومت نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی اور ڈیزل پر لیوی کو صفر رکھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کی جانب سے موٹرسائیکل سواروں کو سبسڈی دینے کی تجاویز زیر غور ہیں جبکہ اس مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جائے گا۔ایک خصوصی ایپ کے ذریعے رجسٹرڈ موٹرسائیکلوں کا ڈیٹا استعمال کرتے ہوئے مستحق افراد کی نشاندہی کی جائے گی۔مشیر خزانہ کے مطابق حکومت کے پاس یہ مکمل ریکارڈ موجود ہے کہ کس صوبے میں کتنی موٹرسائیکلیں رجسٹرڈ ہیں،جس کی بنیاد پر شفاف طریقے سے سبسڈی کی تقسیم ممکن بنائی جائے گی۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ مہنگی یا ہیوی بائیک رکھنے والے افراد کو سبسڈی دینے کا امکان کم ہے کیونکہ وہ پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ اصل توجہ کم آمدنی والے طبقے پر مرکوز رکھی جائے گی۔خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے گا تاکہ حقیقی مستحقین کی درست نشاندہی کی جا سکے اور سبسڈی کا فائدہ صرف ضرورت مند افراد تک پہنچے۔