Home » تاجروں کیلئے بڑا ٹیکس ریلیف پلان،حکومت نے ریٹیلر سکیم ایپ لانچ کر دی،گرین پلیٹ پر ایف بی آر انسپکشن نہیں ہو گی

تاجروں کیلئے بڑا ٹیکس ریلیف پلان،حکومت نے ریٹیلر سکیم ایپ لانچ کر دی،گرین پلیٹ پر ایف بی آر انسپکشن نہیں ہو گی

by ahmedportugal
24 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)حکومت نے چھوٹے تاجروں اور ریٹیلرز کو ٹیکس نظام میں شامل کرنے کے لیے نئی ریٹیلر سکیم ایپ کا باقاعدہ اجرا کردیا ہے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ نئی سکیم کا مقصد چھوٹے دکانداروں کے لیے ٹیکس نظام کو آسان،قابلِ فہم اور اختیاری بنانا جبکہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹیکس وصولی میں شفافیت اور معیشت میں دستاویزی عمل کو فروغ دینا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت ٹیکس نظام کو وسعت دینے کے ساتھ اسے عام کاروباری طبقے کے لیے زیادہ سہل بنانے پر بھی توجہ دے رہی ہے،بجٹ اور ٹیکس پالیسی کی تیاری میں پارلیمنٹ، تاجر برادری اور دیگر متعلقہ سٹیک ہولڈرز سے مسلسل مشاورت ضروری ہے۔وزیر خزانہ نے تاجروں پر زور دیا کہ وہ نئی ریٹیلر سکیم سے فائدہ اٹھائیں اور باقاعدہ ٹیکس نظام کا حصہ بنیں،مت معاشرے کے کسی ایک طبقے کو نظرانداز کرکے آگے نہیں بڑھ سکتی،اس لیے کاروباری شعبے سمیت ہر طبقے کو قومی معیشت اور ٹیکس نظام میں شامل کرنا ضروری ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان جیسے بڑے ملک میں جہاں آبادی 25 سے 26 کروڑ کے درمیان ہے،حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں اور کاروباری افراد کے لیے ایسا نظام وضع کرے جو آسان بھی ہو اور موثر بھی،ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے ٹیکس نظام کو جدید بنانے سے نہ صرف دستاویزات اور ادائیگیوں کا عمل آسان ہو گا بلکہ شفافیت بھی بڑھے گی۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کے لیے بھی ٹیکس ریٹرن کو سادہ بنانے پر کام شروع کر دیا ہے تاکہ عام شہری کے لیے ٹیکس سے متعلق قانونی اور انتظامی تقاضے کم پیچیدہ ہوں۔

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ ریٹیلر سکیم ایپ کا باقاعدہ اجرا کر دیا گیا ہے اور اسے تاجر برادری کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے،نئی سکیم صرف پہلے سے ٹیکس نیٹ میں شامل دکانداروں تک محدود نہیں بلکہ وہ چھوٹے تاجر بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے جو ابھی تک باقاعدہ ٹیکس نظام کا حصہ نہیں بن سکے۔بلال اظہر کیانی نے کہا کہ ایپ کے ذریعے چھوٹے دکاندار موبائل فون سے رجسٹریشن کراسکیں گے،فائلر بن سکیں گے اور ٹیکس ریٹرن بھی جمع کرا سکیں گے ،اس عمل کے لیے انہیں روایتی کاغذی کارروائی اور دفاتر کے غیر ضروری چکروں سے بڑی حد تک نجات ملنے کی توقع ہے۔انہوں نے بتایا کہ نئی سکیم کے تحت دکانداروں کو پوائنٹ آف سیلز کے بعض تقاضوں سے استثنیٰ حاصل ہو گا جبکہ رجسٹرڈ ریٹیلرز کو ایک مخصوص ”گرین پلیٹ“ فراہم کی جائے گی،جس دکان پر یہ گرین پلیٹ آویزاں ہوگی،وہاں ایف بی آر کے افسر کے داخلے کے حوالے سے خصوصی تحفظ فراہم کرنے کا انتظام رکھا گیا ہے۔

وزیر مملکت کے مطابق سکیم میں رجسٹرڈ دکانداروں کی فروخت پر ایک فیصد ٹیکس عائد ہو گا جبکہ کم از کم سالانہ ادائیگی کی ایک حد بھی مقرر کی گئی ہے۔فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق چھوٹے دکانداروں کے لیے کم از کم 25 ہزار روپے کی ادائیگی ہوگی تاہم حتمی رقم متعلقہ دکاندار کے کاروباری حجم اور سکیم کے قواعد کے مطابق ہو گی۔بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ نئی سکیم ان دکانداروں کے لیے بھی دستیاب ہے جن کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے تک ہے،رجسٹریشن کے دوران دکاندار کو پی ایس آئی ڈی جاری کیا جائے گا،جس کے ذریعے مقررہ فیس یا ٹیکس ادا کیا جاسکے گا،فیس جمع ہونے کے بعد دکاندار کو ایک سال کے لیے سکیم میں شمولیت کی تصدیق فراہم کی جائے گی،جس سے اس کی رجسٹریشن اور ٹیکس حیثیت واضح ہو گی۔

وزیر مملکت نے بتایا کہ ریٹیلر سکیم ایپ گوگل پلے سٹور سے ڈاون لوڈ کی جا سکے گی جبکہ ستمبر کے پہلے ہفتے تک اسے مختلف مقامی زبانوں میں بھی دستیاب بنانے کا منصوبہ ہے تاکہ ملک کے دور دراز علاقوں کے چھوٹے تاجر بھی آسانی سے اسے استعمال کرسکیں۔حکومت کا موقف ہے کہ نئی ایپ کے ذریعے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے میں مدد ملے گی اور ایسے لاکھوں دکانداروں کو رسمی معیشت کا حصہ بنایا جاسکے گا جو اس وقت ٹیکس نظام سے باہر ہیں۔بلال اظہر کیانی کے مطابق اگر سکیم مطلوبہ نتائج دینے میں کامیاب رہی تو اس سے ٹیکس بیس بڑھانے کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں،خصوصاً تنخواہ دار طبقے پر موجودہ مالی دباو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔وزیر مملکت نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ نئی سکیم کا مقصد چھوٹے تاجروں کو ہراساں کرنا ہے۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت اور ایف بی آر کا مقصد ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانا اور کاروباری افراد کے لیے نظام کو آسان بنانا ہے،نہ کہ غیر ضروری انتظامی دباو پیدا کرنا۔

چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا کہ ریٹیلر سکیم بنیادی طور پر تاجر برادری کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے،ایف بی آر اور کاروباری طبقہ باہمی تعاون سے کام کرے تو نہ صرف ٹیکس نیٹ میں وسعت لائی جاسکتی ہے بلکہ مجموعی قومی معیشت کو بھی زیادہ منظم اور مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔حکومتی حکام کے مطابق نئی ریٹیلر سکیم میں ڈیجیٹل رجسٹریشن،الیکٹرانک ادائیگی،ٹیکس ریٹرن فائلنگ اور کاروباری تفصیلات کو ایک ہی نظام میں لانے کی کوشش کی گئی ہے،جس سے چھوٹے تاجروں کے لیے ٹیکس انتظامیہ سے رابطہ نسبتاً آسان ہوسکتا ہے۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ ریٹیلر سکیم میں شمولیت کا بنیادی مقصد ٹیکس نظام کو عام دکاندار کی دسترس میں لانا اور چھوٹے کاروباروں کو باقاعدہ معاشی سرگرمی کا حصہ بنانا ہے تاہم حکام نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ جو اہل دکاندار سکیم سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے،ان کے خلاف قانون اور متعلقہ ٹیکس قواعد کے مطابق ضروری کارروائی کی جاسکتی ہے۔نئی ریٹیلر سکیم ایپ کے اجرا کے بعد اب توجہ اس بات پر مرکوز ہوگی کہ ملک بھر کے چھوٹے تاجروں میں اس کی رجسٹریشن کس رفتار سے ہوتی ہے،ڈیجیٹل نظام کس حد تک فعال ثابت ہوتا ہے اور حکومت کا ٹیکس بیس وسیع کرنے کا ہدف عملی طور پر کس حد تک حاصل کیا جاتا ہے۔یوں حکومت کی جانب سے ریٹیلر سکیم ایپ کا اجرا چھوٹے تاجروں کو ٹیکس نظام میں شامل کرنے اور روایتی طریقہ کار کی جگہ ڈیجیٹل ٹیکس انتظام متعارف کرانے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جارہا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز