اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 2027 میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس کے لیے 45 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری پر حکومت نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گاڑیوں کی خریداری کا فیصلہ اجلاس میں شرکت کرنے والے اعلیٰ سطح کے غیر ملکی مہمانوں کی سکیورٹی اور محفوظ نقل و حرکت کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ 45 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری سے متعلق بعض حلقوں اور ذرائع ابلاغ میں شکوک و شبہات پر مبنی تبصرے سامنے آئے ہیں تاہم حکومت کے مطابق ان تبصروں میں خریداری کے اصل پس منظر اور ضروریات کو مکمل طور پر پیش نہیں کیا گیا۔حکومت کے مطابق پاکستان اس وقت شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کی کونسل کی صدارت کررہا ہے اور سربراہانِ مملکت کا اجلاس بین الاقوامی سطح پر ایک اہم اور اعلیٰ پروفائل اجتماع ہوگا۔اجلاس اگست اور ستمبر 2027 کے دوران اسلام آباد میں منعقد ہونے کا شیڈول ہے،جس میں مختلف ممالک کے سربراہانِ مملکت و حکومت اور بین الاقوامی تنظیموں کے اعلیٰ عہدیداروں کی شرکت متوقع ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق اجلاس پاکستان کے لیے ایک اہم بین الاقوامی موقع ہو گا،اس لیے اس کی اہمیت کو معمولی سمجھنے یا سیاسی رنگ دینے کے بجائے اس کے انتظامی، سفارتی اور سکیورٹی تقاضوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔سرکاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں شرکت کرنے والے غیر ملکی سربراہان اور اعلیٰ سطح کے وفود کے لیے محفوظ، قابل اعتماد اور موثر سفری انتظامات یقینی بنانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے،اس مقصد کے لیے گاڑیوں سمیت نقل و حرکت کے انتظامات کو اعلیٰ سطح کے سرکاری مہمانوں کے دوروں کے دوران رائج سکیورٹی معیار کے مطابق رکھنے کی ضرورت ہے۔کابینہ ڈویژن کے مطابق پاکستان کو درپیش سکیورٹی صورتحال،بالخصوص بیرونی عناصر سے لاحق خطرات کے تناظر میں اعلیٰ سطح کے غیر ملکی مہمانوں کو زیادہ سے زیادہ ممکنہ تحفظ فراہم کرنا مزید اہم ہوجاتا ہے۔
حکومت نے وضاحت کی کہ اس وقت کابینہ ڈویژن کے پاس دستیاب جدید ترین بلٹ پروف گاڑیوں میں زیادہ تر 2016 کے ماڈل شامل ہیں،جو 2027 میں ہونے والے اجلاس کے لیے درکار معیار اور ضروریات کے مطابق نہیں ہیں۔اسی وجہ سے نئی گاڑیوں کی خریداری کی ضرورت کا جائزہ لیا گیا۔سرکاری بیان کے مطابق 45 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کا فیصلہ کسی ایک فورم پر عجلت میں نہیں کیا گیا بلکہ اس معاملے پر مختلف متعلقہ فورمز پر غور و خوض کیا گیا۔حکومت کا کہنا ہے کہ 45 گاڑیوں کی تعداد بھی وسیع تر یا اضافی ضرورت کے بجائے کم سے کم ناگزیر ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کی گئی ہے۔کابینہ ڈویژن نے واضح کیا کہ اجلاس کے انتظامات کے لیے صرف بلٹ پروف گاڑیوں پر انحصار نہیں کیا جائے گا۔تقریباً 300 دیگر غیر بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کی جائیں گی،جنہیں اجلاس کے دوران دیگر سفری اور انتظامی ضروریات کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کا بنیادی مقصد سربراہانِ مملکت و حکومت اور دیگر اعلیٰ سطح کے غیر ملکی مہمانوں کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے مطلوبہ گاڑیوں کی دستیابی یقینی بنانا ہے جبکہ دیگر انتظامی ضروریات کرائے کی گاڑیوں کے ذریعے پوری کی جائیں گی۔کابینہ ڈویژن نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کا اجلاس پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی موقع ہے،جس میں دنیا کے مختلف اہم ممالک کی اعلیٰ قیادت اسلام آباد میں جمع ہوگی۔ حکومت کے مطابق ایسے بین الاقوامی اجتماع کے دوران مہمانوں کی سکیورٹی،نقل و حرکت اور دیگر انتظامات میں کسی قسم کی کمی یا غیر یقینی صورتحال سے بچنے کے لیے پیشگی تیاری ضروری ہے۔حکومت نے اپنے موقف میں کہا کہ پاکستان کو ملنے والے اس بین الاقوامی اعزاز کو مثبت انداز میں دیکھنا چاہیے اور اجلاس کے انعقاد کو موثر انداز میں یقینی بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے انتظامات کی حمایت کی جانی چاہیے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق 2027 کا سربراہانِ مملکت اجلاس پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر اپنی انتظامی صلاحیت،سفارتی اہمیت اور میزبانی کی صلاحیت اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔حکومت نے اس تناظر میں 45 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کو اجلاس کے سکیورٹی اور لاجسٹک انتظامات کا حصہ قرار دیا ہے۔پاکستان اس سے قبل بھی شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کی میزبانی کرچکا ہے۔اکتوبر 2024 میں اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ حکومت کا اجلاس منعقد ہوا تھا،جس کے لیے حکومت نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں خصوصی انتظامات کیے تھے۔اس موقع پر اجلاس کے پرامن اور منظم انعقاد کے لیے 14 سے 16 اکتوبر تک دونوں شہروں میں سرکاری تعطیلات کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔تازہ حکومتی وضاحت میں زور دیا گیا ہے کہ 2027 کے سربراہانِ مملکت اجلاس کے لیے گاڑیوں کی خریداری کو صرف اخراجات کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے اعلیٰ سطح کے غیر ملکی مہمانوں کی سکیورٹی،نقل و حرکت اور بین الاقوامی معیار کے انتظامات کی مجموعی ضرورت کے تناظر میں دیکھا جائے۔حکومت کے مطابق اجلاس کی کامیاب میزبانی پاکستان کے لیے اہم سفارتی موقع ہوگی جبکہ 45 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری اور دیگر تقریباً 300 گاڑیوں کا کرائے پر حصول اسی بڑے انتظامی منصوبے کا حصہ ہے۔