اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)مہنگی پیٹرولیم مصنوعات پر بڑھتی عوامی تشویش کے درمیان حکومت نے اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے قیمتوں میں اضافے کی وجوہات پر تفصیلی وضاحت پیش کی ہے اور ساتھ ہی حالات بہتر ہوتے ہی ریلیف دینے کا بڑا وعدہ بھی کیا ہے۔حکومتی موقف کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاو اور خطے کی کشیدہ صورتحال نے فیصلوں کو ناگزیر بنایا تاہم عوامی دباو کے پیش نظر قیمتوں میں کمی کی امید برقرار رکھی گئی ہے،جس کے باعث سب سے اہم سوال یہی ہے کہ یہ ریلیف آخر کب ممکن ہو گا۔
ایگزو نیوز کے مطابق حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے لیے اہم پارلیمانی اجلاس منعقد ہوا، جس میں معاشی دباو،عالمی حالات اور عوامی ردعمل کے تناظر میں حکومتی پالیسیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کی صدارت وزیر دفاع خواجہ آصف نے کی جبکہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب،وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال،وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اہم حکومتی و اتحادی رہنماوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران وزیر خزانہ نے عالمی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایران،اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے،جس کے اثرات پاکستان سمیت دیگر ممالک پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ابتدائی مرحلے میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرولیم قیمتوں میں فوری اضافہ نہیں کیا اور اس مد میں 129 ارب روپے کی سبسڈی برداشت کی گئی۔بعد ازاں قیمتوں میں اضافے کے باوجود موٹر سائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیورز،پبلک ٹرانسپورٹ اور مال بردار شعبے کے لیے ہدفی سبسڈی متعارف کروائی گئی تاکہ عام آدمی پر بوجھ کم سے کم رکھا جا سکے۔وزیر خزانہ نے یہ بھی آگاہ کیا کہ پیٹرولیم سبسڈی کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے صوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے اور بعض شعبوں میں وہ اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔انہوں نے حکومتی اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری اقدامات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ مشکل معاشی حالات میں غیر مقبول مگر ضروری فیصلے ناگزیر ہو چکے ہیں۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی طلب و رسد،ذخائر اور سپلائی چین سے متعلق تفصیلات پیش کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ حکومت نے ایندھن کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے ہیں اور وزیر اعظم خود اس صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔اجلاس کے دوران اتحادی جماعتوں کے رہنماوں نے حکومتی وزرا سے مختلف سوالات بھی کیے اور پالیسیوں پر وضاحت طلب کی۔بعد ازاں وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اجلاس میں شریک اتحادی جماعتوں نے حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ جیسے ہی عالمی حالات میں بہتری آئے گی،ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر دی جائے گی۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی معاشی بحران اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے حکومت کو مشکل فیصلے کرنے پر مجبور کیا ہے تاہم سیاسی و عسکری قیادت کی حکمت عملی کے باعث پاکستان دیگر ممالک کے مقابلے میں نسبتاً بہتر صورتحال میں ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوامی مشکلات میں کمی اور معیشت کا استحکام ہے۔یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر عوامی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی وعدوں کے باوجود قیمتوں میں کمی کا انحصار مکمل طور پر عالمی منڈی کے حالات پر ہوگا۔ ایسے میں شفاف پالیسی،موثر نگرانی اور بروقت ریلیف اقدامات حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکے ہیں۔