لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے صدر اور سینئر صحافی و تجزیہ کار کاظم خان نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ”ایکس“ پر صحافت،حکومتی اشتہارات اور اخبارات کے باہمی تعلق پر ایک فکر انگیز،دو ٹوک اور اصولی تحریر قلمبند کی ہے،جس میں انہوں نے سوشل میڈیا صحافت،نام نہاد دانشوروں،فیک نیوز اور حکومتی اشتہارات کے گرد گھومنے والے مباحث کو نہایت واضح انداز میں بے نقاب کیا ہے۔کاظم خان کی تحریر صحافتی اصولوں،آئینی تقاضوں اور جمہوری اقدار کے تناظر میں ایک سنجیدہ اور مدلل موقف پیش کرتی ہے،جس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ اشتہار کہاں معلومات اور کہاں رشوت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ذیل میں ایگزو نیوز کے قارئین کے لئے کاظم خان کی مکمل تحریر من و عن پیش کی جا رہی ہے۔
“صحافتی پیرہن،حکومتی اشتہارات اور اخبارات”
صحافت کے پیرہن کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ بلا تمیز ہر اس جسم کو بھی ڈھانپ لیتا ہے جو سر تا پا جہل،لاعلمی اور خود ساختہ دانش کا مجموعہ ہوتا ہے مجبورا اگر گیدڑ شیر کی کھال پہن لے تو اسکی حقیقت اس وقت عیاں ہوتی ہے جب وہ ”بولنا اور لکھنا “شروع کرتا ہے۔آجکل چونکہ سوشل میڈیا کی بدولت صحافت کا پیرھن مفت تقسیم ہوتا ہے تو خدا کی طرف سے ودیعت کردہ ”جہالت ، لا علمی اور خود ساختہ دانشمندی “ سے مزین کچھ بے ہودہ اذہان موضوع کی ابجد سے مکمل نا واقفیت کے باوجود صحافت کے ارسطو اور سقراط بن کر اپنی ” ناجائز رائے “ اس تیقن کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ ذرا سی سمجھ بوجھ رکھنے والا بھی انکی تصویر دیکھ کر تحریر پڑھے بغیر ”قالو سلاما “ کا ورد کرتے آگے بڑھ جاتا ہے۔
آجکل چند ”جید دانشور “ ان سوالات کا بوجھ اُٹھائے سوشل میڈیا پر نظر آتے ہیں کہ
کیا اخبارات کو اشتہارات مانگنے چاہئیں ؟
کیا حکومت کو عوامی پیسہ اشتہارات کی مد میں (من پسند)اخبارات کو دینا چاہئیے ؟
کیا یہ ایک طرز کی رشوت ہے جسے حکومت رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کے لئے استعمال کرتی ہے؟اس پہ رائے دینے سے قبل یہ بھی ذہن میں رکھئے گا کہ یہ ” جید دانشور” پیشہ ور صحافیوں کے روپ میں پیشے پے بیٹھے وہ صحافی نما بھی ہو سکتے ہیں جنہیں حکومتیں کسی بھی ”جائز ایکشن “ سے قبل متعلقہ انڈسٹری کا رد عمل جاننے کے لئے میدان حرب میں اتارتی ہے۔بہر حال جمہوریت اور آئین کے رائج اصول کے مطابق ” معلومات تک رسائی عوام کا بنیادی حق ہے “ جس سے روگردانی ایک سنگین جرم ہے۔حکومتیں اپنے پراجیکٹس،پالیسیز، قانون سازی،کارکردگی اپنے عوام تک پہنچانے کے لئے مختلف ذرائع استعمال کرتی ہیں جسکا مقصد عوامی رائے کو ذہن میں رکھ کر فیصلہ سازی کرنا ہوتا ہے۔میں اشتہارات مانگنے والے اخبارات کا سخت ناقد ہوں کیونکہ یہ صحافت کی روح ذاتی مفاد سے بالاتر ہونا اور غیر جانبدارانہ نقطہ نظر سے رو گردانی یا تضاد کے زمرے میں آتا ہے مگر حکومت کو اپنی کارکردگی بتانے کے لئے اخبارات سمیت مختلف میڈیمز کا سہارا لینا پڑتا ہے اور آگہی اور حکومتی منصوبوں کے متعلق بتانے واسطے اخبارات کو اشتہارات دئیے جاتے ہیں۔
آپ نے عموما دیکھا ہوگا کہ ٹی وی پر چلنے والے حکومتی اشتہارات کے ساتھ “ Paid advertisement ” مسلسل چل رہا ہوتا ہے جسکا مطلب ہوتا ہے کہ یہ اشتہار پیسے دے کر چلایا جا رہا ہے اور ٹی وی پالیسی کا اس اشتہار سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح اخبار میں چھپنے والا اشتہار ادارتی طرز عمل پر چھپنے والی خبروں سے مختلف ہوتا ہے مگر اب کچھ سالوں سے یہ فرق سمجھنا مشکل ہو گیا ہے کیونکہ بعض اوقات ایڈورٹائزر اپنے مواد کی تشہیر کے لئے ” ادارتی پیرہن “ اوڑھے اشتہارات کو بھی اخبارات کی زینت بنا رہے ہیں۔بہر حال ” فیک نیوز “ کے اس دور میں آج بھی میرے نزدیک معتبر ترین،قابل اعتماد ” خبریت “ کا ذریعہ اخبار ہی ہیں۔
اشتہار رشوت کی صورت اس وقت اختیار کرتا ہے جب حکومتیں کسی بھی من پسند میڈیا گروپ کو دوسروں پر فوقیت دیتے ہوئے عوامی پیسہ شفافیت کے اصول کو پس پشت ڈالتے ہوئے ان اخبارات کو دیں جو اسکے حقدار نا ہوں یا ڈمی کے زمرے میں آتے ہوں۔اس لئے بلا سوچے سمجھے اخبارات کو ملنے والے اشتہارات پر تنقید کے نشتر چلانے سے قبل ضروری ہے کہ موضوع کی حساسیت کو سمجھا جائیے۔باقی ہر کسی کی رائے کا احترام ضروری ہے بشرطیکہ اسکا تعلق اسی شعبے سے ہو اور وہ قابل اعتماد آواز ہو وگرنہ۔۔۔
آواز سگاں کم نا کنند رزق گدارا
نوٹ: یہ تحریر صحافتی اصولوں کی پاسداری کے مروجہ قوانین کو ذہن میں رکھ کر لکھی گئی ہے۔موجودہ صحافت کی عملی تصویر کا اس سے ” دور دور “تک متفق ہونا ضروری نہیں۔