اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں ٹرانسپورٹرز کے بعض اہم مطالبات پر پیش رفت سامنے آئی ہے تاہم فریقین کے درمیان حتمی معاہدہ نہ ہونے کے باعث ملک گیر پہیہ جام ہڑتال ختم نہیں ہوسکی۔مذاکرات میں ایک سال تک ٹول ٹیکس میں اضافہ نہ کرنے اور حالیہ اضافے میں کمی کرنے پر اصولی اتفاق کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق ٹرانسپورٹرز ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران حکومت کی جانب سے ایک سال تک ٹول ٹیکس میں مزید اضافہ نہ کرنے کے اصولی فیصلے پر اتفاق کیا گیا جبکہ حالیہ دنوں میں ٹول ٹیکس کی شرح میں کیے گئے اضافے کو بھی کسی حد تک کم کرنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ذرائع کے مطابق مذاکرات میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری اضافے کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایندھن کی قیمتوں میں آئندہ ایک ہفتے یا 15 روز تک اضافہ نہیں کیا جائے گا تاہم ٹرانسپورٹرز کا موقف ہے کہ ان کے تمام مطالبات کو عملی طور پر تسلیم کیے جانے تک احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔
وزارتِ مواصلات میں حکومت اور آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے درمیان مذاکرات ہوئے،جن میں ٹرانسپورٹرز کے ٹول ٹیکس،ایکسل لوڈ،ٹیکسوں میں ریلیف اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سمیت مختلف مطالبات زیر بحث آئے۔مذاکرات کے بعد صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن محمد اویس چوہدری نے واضح کیا کہ مذاکرات میں بعض معاملات پر پیش رفت ضرور ہوئی ہے تاہم ابھی کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ مطالبات کی مکمل منظوری اور ان پر عملی پیش رفت تک ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال جاری رہے گی۔محمد اویس چوہدری نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز اپنے جائز اور قانونی مطالبات سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔ان کے مطابق حکومت کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے اور ٹرانسپورٹرز بھی مسائل کا قابلِ عمل اور دیرپا حل چاہتے ہیں تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ طے پانے والے معاملات کو عملی شکل دی جائے۔
ٹرانسپورٹرز نے ایکسل لوڈ لمٹ کے حوالے سے بھی اہم مطالبہ سامنے رکھا ہے۔ان کا موقف ہے کہ ایکسل لوڈ کی مقررہ حد سے متعلق قانون پر موثر،یکساں اور بلاامتیاز عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ ملک بھر میں ٹرانسپورٹرز کو مختلف علاقوں میں مختلف نوعیت کے مسائل اور کارروائیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اس کے علاوہ ٹرانسپورٹرز نے حکومت سے مختلف ٹیکسوں میں ریلیف دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے اخراجات،ٹول ٹیکس،ایندھن کی قیمتوں اور دیگر مالی ذمہ داریوں کے باعث گڈز ٹرانسپورٹ کا شعبہ شدید دباو کا شکار ہے،اس لیے ٹیکسوں میں مناسب ریلیف ناگزیر ہے۔ٹرانسپورٹرز کا ایک اہم مطالبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین سے متعلق بھی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں بار بار ردوبدل سے کاروباری منصوبہ بندی اور مال برداری کے اخراجات متاثر ہوتے ہیں،اس لیے ڈیزل کی قیمتوں میں تبدیلی روزانہ کی بنیاد پر کرنے کے بجائے ماہانہ بنیادوں پر کی جائے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے مذاکرات کے دوران ٹرانسپورٹرز کو ان کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔حکومتی حکام نے ٹرانسپورٹرز کے مطالبات پر غور اور قابلِ عمل تجاویز کے ذریعے معاملات طے کرنے کی یقین دہانی کرائی تاہم احتجاج ختم کرنے کے لیے ٹرانسپورٹرز عملی اقدامات اور مطالبات کی منظوری پر زور دے رہے ہیں۔ٹرانسپورٹرز قیادت کا کہنا ہے کہ محض یقین دہانیوں سے ہڑتال ختم نہیں کی جائے گی بلکہ مطالبات پر واضح اور عملی پیش رفت ضروری ہے۔ان کے مطابق جب تک حکومت کی جانب سے کیے گئے فیصلوں پر موثر عملدرآمد شروع نہیں ہوتا،ملک بھر میں پہیہ جام احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ برقرار رہے گا۔حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات میں ٹول ٹیکس اور دیگر معاملات پر پیش رفت کے باوجود حتمی اتفاق رائے نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک گیر ٹرانسپورٹ ہڑتال کے خاتمے کے لیے مزید مذاکرات اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔آئندہ مذاکرات میں یہ فیصلہ اہم ہو گا کہ حکومت ٹرانسپورٹرز کے مطالبات پر کس حد تک باضابطہ یقین دہانی اور عملی ریلیف فراہم کرتی ہے۔