کراچی(ایگزو نیوز ڈیسک)سونے کی قیمتوں میں مسلسل دو روز تک تیزی کے بعد اچانک مندی کا رجحان سامنے آیا ہے،جس کے نتیجے میں فی تولہ سونا 1100 روپے سستا ہو گیا ہے۔مقامی صرافہ بازار کے ساتھ ساتھ عالمی منڈی میں بھی قیمتوں میں اتار چڑھاو جاری ہے،جس سے سرمایہ کاروں میں غیر یقینی کی فضا برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی معاشی اشاریوں،امریکی ڈالر کی قدر میں تبدیلی اور شرح سود سے متعلق توقعات سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہی ہیں،جس کے باعث مارکیٹ میں غیر معمولی رد و بدل دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل دو روز تک نمایاں اضافے کے بعد آج کمی ریکارڈ کی گئی ہے،جس کے تحت فی تولہ سونا 1100 روپے سستا ہو گیا ہے۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مقامی صرافہ بازار میں فی تولہ سونے کی نئی قیمت کم ہو کر 4 لاکھ 39 ہزار 836 روپے ہو گئی ہے۔اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 943 روپے کی کمی دیکھی گئی،جس کے بعد یہ 3 لاکھ 77 ہزار 88 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔قیمتوں میں یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ دو روز کے دوران سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی تھی۔عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا،جہاں فی اونس سونا 11 ڈالر سستا ہو کر 4 ہزار 174 ڈالر کی سطح پر آ گیا۔اس سے قبل عالمی منڈی میں سونے کی قیمت تقریباً ایک فیصد اضافے کے بعد 4 ہزار 165 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی تھی،جو 23 جون کے بعد بلند ترین سطح تھی جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز میں بھی 1.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا،جب فی تولہ سونا 12 ہزار 200 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 40 ہزار 936 روپے تک پہنچ گیا تھا جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 10 ہزار 459 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 78 ہزار 31 روپے ہو گئی تھی۔ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر معاشی اشاریوں میں تبدیلی، خاص طور پر امریکی جاب مارکیٹ کے کمزور اعداد و شمار،سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔جون کے دوران نان فارم پے رولز میں صرف 57 ہزار نئی ملازمتوں کا اضافہ ہوا،جو کہ ماہرین کی 1 لاکھ 10 ہزار کی پیش گوئی سے خاصا کم ہے۔اس صورتحال نے شرح سود میں مزید اضافے کے خدشات کو کم کیا،جس کے باعث سونے کی طلب میں اضافہ ہوا۔
مزید برآں امریکی ڈالر کی قدر میں ہفتہ وار کمی بھی سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاو کی ایک اہم وجہ قرار دی جا رہی ہے،کیونکہ ڈالر کی کمزوری سے دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے سونا نسبتاً سستا ہو جاتا ہے،جس سے عالمی طلب متاثر ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی عالمی معاشی صورتحال، شرح سود اور ڈالر کی قدر سونے کی قیمتوں کے تعین میں کلیدی کردار ادا کرتی رہے گی، جس کے باعث مارکیٹ میں اتار چڑھاو کا سلسلہ برقرار رہنے کا امکان ہے۔