Home » اسلام آباد فتح کرنے نہیں،27 ستمبر کو اپنے حقوق مانگنے آرہے ہیں،بیرسٹر گوہر نے حکومت کو واضح پیغام دے دیا

اسلام آباد فتح کرنے نہیں،27 ستمبر کو اپنے حقوق مانگنے آرہے ہیں،بیرسٹر گوہر نے حکومت کو واضح پیغام دے دیا

by ahmedportugal
13 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)چیئرمین پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ 27 ستمبر کو تحریک انصاف اسلام آباد پر قبضہ یا شہر فتح کرنے نہیں بلکہ اپنے آئینی و سیاسی حقوق کے حصول اور انصاف کے مطالبے کے لیے پہنچے گی، احتجاج مکمل طور پر پرامن ہوگا اور پارٹی ریاست یا صوبے کے وسائل استعمال نہیں کرے گی۔
ایگزو نیوز کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اچھی بات ہے کہ عدالتیں ہمیں انصاف دینا شروع کریں تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ عدالتی احکامات پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد بھی یقینی بنایا جائے، تقریباً 320 روز گزر چکے ہیں اور ان کی بانی پی ٹی آئی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی جبکہ ان کی اپنی بانی سے آخری ملاقات 15 اکتوبر 2025 کو ہوئی تھی۔پی ٹی آئی چیئرمین نے واضح کیا کہ 27 ستمبر کا احتجاج کسی تصادم یا طاقت کے مظاہرے کے لیے نہیں ہوگا، ہم اسلام آباد فتح کرنے نہیں آرہے بلکہ اپنے حقوق مانگنے آرہے ہیں، احتجاج کی قیادت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کریں گے اور کارکنان پرامن انداز میں اپنے مطالبات پیش کریں گے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی اڈیالہ جیل کے گیٹ توڑنے یا کسی سرکاری تنصیب پر حملہ کرنے نہیں آرہی، ہماری خواہش صرف یہ ہے کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے اور ہمارے مطالبات کو سنجیدگی سے زیر غور لایا جائے، پارٹی نے اپنے مسائل کے حل کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا، پارلیمنٹ اور سینیٹ میں بھی آواز اٹھائی لیکن کہیں سے شنوائی نہیں ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف سات سزائیں ہوچکی ہیں، تقریباً 300 مقدمات بنائے گئے اور وہ تین سال سے جیل میں ہیں،اب اس معاملے پر مزید پیش رفت ہونی چاہیے اور ”اب بس ہونی چاہیے“۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے حکومت اور ریاستی اداروں پر زور دیا کہ موجودہ سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ہسپتال منتقل کرکے مناسب علاج کی سہولت فراہم کرنا اعتماد کی فضا بحال کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے اور اس کی خواہش ہے کہ پاکستان ترقی کرے اور مضبوط ہو، پاکستان نے حالیہ صورتحال میں اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دی، ایسے میں ملک کے اندر بھی سیاسی استحکام اور اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔

بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کا اعلان پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے حالیہ معاہدے سے پہلے کیا گیا تھا، پارٹی نے ماضی میں بھی پاکستان کی اہم سفارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا نہیں کی،جب پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات ہوئے تو پی ٹی آئی نے اپنا جلسہ منسوخ کردیا تھا جبکہ ایران اور چین کے وفود کی پاکستان آمد کے موقع پر بھی پارٹی ارکان اسمبلی میں موجود رہے۔انہوں نے شکوہ کیا کہ بدقسمتی سے دوسری جانب سے سیاسی کشیدگی کم کرنے اور بات چیت آگے بڑھانے کے لیے کوئی سنجیدہ پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔بیرسٹر گوہر نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی قوتوں کے درمیان رابطے کے دروازے بند رکھے گئے تو نظام مزید سکڑتا چلا جائے گا،حکومتی حلقوں کی جانب سے خود یہ بات کی جاتی ہے کہ نظام کو ری سیٹ کی ضرورت ہے لیکن اگر سیاسی قیادت اور ریاستی ادارے اس ری سیٹ کے لیے تیار نہیں ہوں گے تو عوام خود ری سیٹ کردیں گے،ملک کے مفاد میں یہی بہتر ہے کہ موجودہ تناو کو کم کیا جائے اور سیاسی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ کے ایک حکم پر عملدرآمد نہ ہونے پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آخری لمحے میں جن لوگوں نے عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا، انہوں نے اچھا نہیں کیا،اس کے باوجود پورا پاکستان اس وقت خوش تھا جب سپریم کورٹ کی جانب سے حکم جاری کیا گیا تھا۔سابق وزیر اعظم عمران خان کے علاج کے معاملے پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں اس معاملے پر پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں، پارٹی احتجاج کے معاملے پر بھی دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطہ کرے گی اور انہیں ساتھ چلنے کی دعوت دے گی۔بشریٰ بی بی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں ایک مقدمے میں اندر رکھا گیا ہے اور یہ غیر انسانی سلوک ہے،اپوزیشن اتحاد پارلیمنٹ کے اندر حکومت کو جوابدہ بنانے کی کوشش کرے گا جبکہ عوامی مسائل کے حوالے سے پارلیمنٹ سے باہر بھی مشترکہ جدوجہد کی جائے گی۔

آزاد کشمیر کے معاملات پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کا موقف واضح ہے اور عوامی مطالبات پر بات چیت ہونی چاہیے،تحریک انصاف کسی ریاست مخالف یا پاکستان مخالف بیانیے کے ساتھ نہیں بلکہ ملک کے اندر موجود سیاسی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے سیاسی جدوجہد کررہی ہے۔حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے کسی باقاعدہ پیش رفت یا اشارے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی واضح اشارہ نہیں ملا تاہم پی ٹی آئی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، سیاسی ڈائیلاگ ناگزیر ہے اور موجودہ صورتحال اس لیے پیدا ہوئی کہ ان کی جماعت کی بات نہیں سنی جارہی۔پی ٹی آئی کی فنڈنگ سے متعلق سوال پر بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا کہ پارٹی نے ہمیشہ ڈونیشن کے ذریعے فنڈز حاصل کیے ہیں اور اس کے اکاونٹس کلیئر ہیں،پارٹی کو ملنے والی فنڈنگ سٹیٹ بینک کے منظور شدہ طریقہ کار کے مطابق آتی ہے،تمام عطیات بینکنگ چینلز کے ذریعے وصول کیے جاتے ہیں اور پارٹی کا باقاعدہ آڈٹ بھی ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا پر صحافیوں کی ٹرولنگ کے حوالے سے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ان کی جماعت کسی صحافی کی ٹرولنگ کی حمایت نہیں کرتی،صحافیوں کو اپنی رائے عوام کے سامنے رکھنے کا مکمل حق حاصل ہے اور اختلاف رائے کو ذاتی حملوں میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔بانی پی ٹی آئی کے بچوں سے رابطے کے معاملے پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ان کے بچوں کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے والد سے واٹس ایپ کے ذریعے بات کریں،عمران خان کے بچوں کے حوالے سے زیادہ گفتگو ان کی فیملی کی جانب سے کی جاتی ہے۔انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ احتجاج پی ٹی آئی کی مجبوری بن چکا ہے تاہم اگر حکومت سیاسی مذاکرات کے لیے آگے بڑھتی ہے تو ان کی جماعت بات چیت کے لیے تیار ہے۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق عمران خان نے بھی کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا لہٰذا موجودہ سیاسی بحران کا حل مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز