Home » غزہ کی جانب عالمی بحری بیڑا،مزاحمت،خطرات اور عالمی یکجہتی کا سفر

غزہ کی جانب عالمی بحری بیڑا،مزاحمت،خطرات اور عالمی یکجہتی کا سفر

تحریر:محبوب احمد (چیئرمین، ای ایکس او گروپ آف کمپنیز)

by ahmedportugal
15 views
A+A-
Reset

یہ بیڑا جو آج بحر روم کی لہروں پر تیر رہا ہے، محض کشتیوں کا ایک مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ علامت ہے۔۔۔یہ دنیا کے مختلف خطوں سے آئے انسانوں کا ایک کارواں ہے جو اپنے ہاتھوں میں نہ صرف امداد اٹھائے ہوئے ہیں بلکہ ایک بے آواز قوم کی صداوں کو بھی اپنے ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔۔۔اس بیڑے کو گلوبل صمود فلوٹیلا کہا جا رہا ہے،جس کا مقصد اسرائیل کی اٹھارہ سالہ ناکہ بندی کو چیر کر غزہ کی محصور آبادی تک زندگی کی سانسیں لے جانا ہے۔۔۔اس میں شامل کارکنان، ڈاکٹرز،انسانی حقوق کے علمبردار اور امدادی کارکن اپنے اپنے دیسوں سے نکل کر یہاں جمع ہوئے ہیں تا کہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ فلسطین کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور غزہ کے بچے اور بزرگ بھوک اور قید میں موت کے حوالے نہیں کیے جائیں گے۔۔۔یہ سفر بظاہر انسانی ہمدردی کا ہے مگر دراصل یہ ایک اعلان مزاحمت بھی ہے۔ ۔۔یہ انکار ہے اس ناانصافی کا جو برسوں سے فلسطینی عوام کے نصیب میں لکھی گئی ہے۔۔۔ان کشتیوں پر لہرائے جانے والے فلسطینی پرچم صرف رنگ اور کپڑا نہیں بلکہ امید اور قربانی کا وہ استعارہ ہیں جو نسل در نسل منتقل ہوا ہے۔۔۔

دنیا کے مختلف براعظموں سے آئے یہ لوگ ایک زبان ہو کر آزادی کے نعرے لگاتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سمندر کی وسعت بھی ان کی آواز سے گونج اٹھتی ہے۔۔۔لیکن یہ راستہ کسی طور آسان نہیں۔۔۔ اس میں خوف ہے،دھمکیاں ہیں اور جان لیوا خطرات ہیں۔۔۔ابھی چند ہی روز قبل فلوٹیلا نے ڈرون حملوں اور الیکٹرانک جامنگ کا سامنا کیا۔۔۔۔جہازوں کے اوپر آسمان دھماکوں کی آوازوں سے لرز اٹھا،رابطے منقطع ہو گئے اور کشتیوں پر موجود افراد میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔۔۔اب بھی کہا جا رہا ہے کہ کسی وقت بھی ان پر حملہ ہو سکتا ہے  پھر بھی، ان کے حوصلے متزلزل نہ ہوئے۔۔۔ وہ جانتے ہیں کہ اسرائیل نے کھلے عام اعلان کیا ہے کہ یہ بیڑا نہیں گزرنے دیا جائے گا۔۔۔جنگی جہاز پہلے ہی ان کے راستے میں کھڑے ہیں اور شرکاء بخوبی آگاہ ہیں کہ ان پر گرفتاری،تشدد یا حتیٰ کہ موت بھی نازل ہو سکتی ہے مگر اس کے باوجود وہ پیچھے نہیں ہٹ رہے کیونکہ ان کے نزدیک یہ سفر محض امداد کی ترسیل نہیں بلکہ تاریخ کے سامنے سچائی اور انسانیت کی گواہی ہے۔۔۔۔کشتیوں پر موجود کارکنان کے لیے یہ سفر زندگی اور موت کے بیچ ایک عہد ہے۔۔۔

ماحولیات کی سرگرم کارکن گریٹا تھنبرگ  نے اپنی آواز شامل کرتے ہوئے کہا ہم روانہ ہوئے ہیں کیونکہ خاموشی موت ہے۔۔۔غزہ کو جینے کا حق ہے۔۔۔ان کے یہ الفاظ کشتیوں کے ڈیک پر کھڑے ان سب لوگوں کے دل کی ترجمانی کرتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ دنیا کی خاموشی ہی سب سے بڑا جرم ہے۔۔۔غزہ کے اندر محصور خاندانوں کے لیے یہ بیڑا محض امداد کا ذریعہ نہیں بلکہ امید کی کرن ہے۔۔۔وہاں کی مائیں اپنے بچوں کو دلاسہ دیتی ہیں کہ ”مدد راستے میں ہے“ گویا یہ قافلہ ان کے دلوں کی دھڑکن بن گیا ہے۔۔۔دنیا کے مختلف ممالک میں یہ مشن اجتماعی ضمیر کی بیداری کا سبب بن چکا ہے۔۔۔ایشیا سے افریقہ تک،یورپ سے لاطینی امریکہ تک قومیں اپنی اپنی سطح پر اس بیڑے کی تائید کر رہی ہیں۔۔۔انڈونیشیا نے اپنے گلوبل پیس قافلے کے ذریعے اس مہم کو تقویت دی اور اپنے شہریوں کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی۔۔۔ پاکستان  نے پندرہ دیگر ممالک کے ساتھ مل کر بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور فلوٹیلا کے شرکاءکی سلامتی کا مطالبہ کیا۔۔۔بنگلہ دیش، برازیل، کولمبیا، آئرلینڈ، لیبیا، ملائیشیا،مالدیپ،میکسیکو،عمان،قطر،سلووینیا،جنوبی افریقہ،سپین اور ترکی  نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں واضح طور پر کہا گیا کہ غیرقانونی حملے نا قابلِ قبول ہیں اور فلوٹیلا کا تحفظ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔۔۔تیونس نے تو اس کارواں کے لیے مرکزی اڈے کا کردار ادا کیا،جہاں سے امدادی سامان اکٹھا کیا گیا، رضاکار روانہ ہوئے اور جہاز تیار کیے گئے۔۔۔

سپین اور اٹلی نے بحری جہاز بھیجے تاکہ بین الاقوامی پانیوں میں فلوٹیلا کی حفاظت کی جا سکے۔۔۔سپین نے تو یہاں تک قدم اٹھایا کہ اسرائیلی تعلق رکھنے والے جہازوں پر اپنی بندرگاہوں میں پابندی لگا دی،یہ فیصلہ اپنی نوعیت میں غیر معمولی تھا۔۔۔ان تمام کوششوں  نے اس مشن کو محض ایک علاقائی مسئلے کے بجائے ایک حقیقی عالمی پکارِ حیات بنا دیا ہے۔۔۔یہ سفر کسی حد تک اس بات کا استعارہ بن چکا ہے کہ جب ظلم کی انتہا ہو جائے تو دنیا کے عام انسان بھی خاموش نہیں رہتے۔۔۔یہ کشتیوں کا بیڑا دراصل انسانیت کی وہ اجتماعی روح ہے جو سرحدوں اور قومیتوں سے ماورا ہو کر مظلوم کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے۔۔۔چاہے یہ فلوٹیلا غزہ کی سرزمین تک پہنچے یا اسے راستے میں روک دیا جائے،اس کا پیغام پہلے ہی دنیا بھر میں گونج چکا ہے۔۔۔ یہ پیغام ہے کہ ناکابندی کو ختم ہونا چاہیے اور فلسطینی عوام کو اپنی زمین پر عزت اور آزادی کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہے۔۔۔آج رات جب بحر روم ان کشتیوں کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہے تو یہ صرف فولاد اور لکڑی کے ٹکڑے نہیں ہیں جو لہروں پر ہچکولے کھا رہے ہیں۔۔۔یہ انسانیت کے خواب ہیں،یہ مزاحمت کا عہد ہے،یہ یکجہتی کی قوت ہے اور یہ وہ امید ہے جو ہر ظلم کے باوجود مرنے سے انکار کرتی ہے۔۔۔یہ بیڑا دنیا کو یہ یاد دلا رہا ہے کہ اندھیروں میں بھی چراغ جلائے جا سکتے ہیں اور محصور لوگوں کے لیے دور دراز سے اٹھنے والی صدائیں کسی دن دیواروں کو توڑ کر روشنی تک پہنچ ہی جاتی ہیں۔۔۔یہی اس سفر کی اصل کامیابی ہے،ایک ایسی امید جو سمندر کی موجوں سے بھی زیادہ وسیع ہے اور ایک ایسی مزاحمت جو کسی توپ،کسی بارود اور کسی ناکہ بندی سے نہیں دبائی جا سکتی۔۔۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز