نیویارک(ایگزو نیوز ڈیسک)عالمی توانائی بحران ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطحوں کی جانب گامزن ہیں۔برینٹ کروڈ کی قیمت میں حالیہ تیزی نے عالمی منڈی کو شدید دباو میں ڈال دیا ہے جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ توانائی سپلائی چین غیر معمولی دباو کا شکار ہے اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق برینٹ کروڈ کی عالمی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،جس کے بعد مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاو اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔تازہ کاروباری سرگرمیوں کے دوران برینٹ کروڈ تین ہفتوں کی بلند ترین سطح عبور کرتے ہوئے 110 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گیا ہے،جو عالمی توانائی منڈی میں بڑھتے دباو کی واضح علامت ہے۔ماہرین کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بحالی میں تاخیر ہے،جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے تاہم مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں قیمتوں پر صرف جغرافیائی کشیدگی نہیں بلکہ زمینی سطح پر تیل کی حقیقی قلت بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔توانائی مارکیٹ کے تجزیہ کار نیل ولسن کے مطابق سرمایہ کار اب محض سفارتی بیانات کے بجائے اس امر پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ سمندری راستوں کے ذریعے تیل کی ترسیل کس حد تک متاثر ہو رہی ہے۔ان کے مطابق یہی عنصر قیمتوں میں حالیہ تیزی کا بنیادی محرک بن چکا ہے۔دوسری جانب ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہے،جو اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی توانائی منڈی مجموعی طور پر شدید دباو کا شکار ہے۔
ادھر امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کے شکار مذاکرات بھی بحال نہ ہو سکے، جس کے باعث عالمی اسٹاک مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال مزید گہری ہو گئی ہے۔ امریکا میں نیسڈیک اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں کمی جبکہ یورپ اور ایشیا کی مارکیٹس میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔امریکا میں بھی ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ امریکی آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق پیٹرول کی اوسط قیمت 4.18 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جو اگست 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو آئندہ دنوں میں قیمتیں 4.30 ڈالر فی گیلن تک پہنچ سکتی ہیں۔رپورٹس کے مطابق امریکا میں تیل کے ذخائر بھی مسلسل کم ہو رہے ہیں اور یہ سطح 250 ملین بیرل کے معمول سے گر کر 230 ملین بیرل سے بھی نیچے آ چکی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکا مشرق وسطیٰ میں سپلائی کی کمی پوری کرنے کے لیے ریکارڈ مقدار میں تیل برآمد کر رہا ہے، جس سے اندرونی مارکیٹ پر مزید دباو بڑھنے کا خدشہ ہے۔خاص طور پر ریاست کیلیفورنیا میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 6 ڈالر فی گیلن تک پہنچ چکی ہے، جو صارفین کے لیے ایک بڑا معاشی بوجھ بنتی جا رہی ہے اور مہنگائی کے دباو میں مزید اضافے کا اشارہ دے رہی ہے۔