کراچی(ایگزو نیوز ڈیسک)دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان برقرار ہے، اور سونا ایک بار پھر اپنی بلند ترین سطح پر جا پہنچا ہے۔
آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت 3400 روپے کے اضافے کے بعد 3 لاکھ 93 ہزار 700 روپے تک جا پہنچی ہے، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح تصور کی جا رہی ہے۔ اسی طرح دس گرام سونے کے نرخ 2915 روپے اضافے سے بڑھ کر 3 لاکھ 37 ہزار 534 روپے تک پہنچ گئے ہیں۔چاندی کی قیمتوں نے بھی نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ فی تولہ چاندی 63 روپے مہنگی ہو کر 4595 روپے کی سطح پر آ گئی ہے، جب کہ دس گرام چاندی کے نرخ بھی اسی اضافے کے تناسب سے بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں یہ اضافہ عالمی مارکیٹ میں مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کا براہ راست نتیجہ ہے۔بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونا غیر معمولی رفتار سے مہنگا ہوا ہے۔ عالمی گولڈ مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 34 ڈالر اضافے کے ساتھ 3719 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو حیران کر دیا ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر جاری جغرافیائی کشیدگی، شرح سود میں غیر یقینی صورتحال اور ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاو کے باعث سرمایہ کار بڑی تعداد میں قیمتی دھاتوں کی خریداری کر رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر مارکیٹ پر پڑ رہا ہے۔پاکستان میں روپے کی گرتی ہوئی قدر اور عالمی مارکیٹ کے اثرات نے مقامی سطح پر سونے اور چاندی کو عام عوام کی پہنچ سے مزید دور کر دیا ہے۔ زیورات کی خریداری کرنے والے طبقے کے لیے یہ صورتحال تشویش ناک ہے، جبکہ سرمایہ کار طبقہ سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو محفوظ سرمایہ کاری کا ذریعہ قرار دے رہا ہے۔اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر عالمی سطح پر یہ رجحان جاری رہا تو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کا براہ راست اثر پاکستان کی معیشت اور عام صارف پر پڑے گا۔ اس وقت مقامی اور عالمی مارکیٹ دونوں ہی ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہیں جہاں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں تسلسل کے ساتھ اضافہ نظر آ رہا ہے۔
عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونے کی نئی بلندی، پاکستان میں فی تولہ قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی
17