یورپی ملک جارجیا میں سیاسی بحران شدت اختیار کرگیا ہے جہاں دارالحکومت تبلیسی میں بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج پھوٹ پڑا اور مشتعل مظاہرین صدارتی محل پر دھاوا بول گئے۔ غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق ہزاروں افراد حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور لبرٹی اسکوائر کے قریب نصب رکاوٹوں کو آگ لگا دی۔ اس دوران حکومت مخالف نعرے بازی نے ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق مظاہروں کا آغاز اس وقت ہوا جب حکومت نے اپوزیشن کی جانب سے آئندہ انتخابات کے بائیکاٹ کی کال کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ احتجاج کرنے والوں کا موقف ہے کہ حکومت شفاف انتخابات سے گریزاں ہے اور اپنے حق میں نتائج حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اپوزیشن نے اس اقدام کو جمہوریت کے لیے کھلا خطرہ قرار دیا ہے۔صورتحال قابو سے باہر ہونے پر سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا، تاہم کئی مقامات پر جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں۔ صدارتی محل کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے اور مزید ہنگامہ آرائی کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔بین الاقوامی مبصرین نے جارجیا کی بگڑتی ہوئی سیاسی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات اور پرامن ذرائع کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کریں تاکہ ملک مزید عدم استحکام کا شکار نہ ہو۔
جارجیا میں سیاسی بحران سنگین،صدارتی محل پر دھاوا،احتجاجی مظاہرے قابو سے باہر
11