Home » لاہور جنرل ہسپتال میں سرکاری ادویات چوری کا سکینڈل،ڈی ایم ایس سمیت 3 ملازمین معطل

لاہور جنرل ہسپتال میں سرکاری ادویات چوری کا سکینڈل،ڈی ایم ایس سمیت 3 ملازمین معطل

by ahmedportugal
29 views
A+A-
Reset

لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)لاہور جنرل ہسپتال میں سرکاری ادویات کی مبینہ چوری کے معاملے پر محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے سخت کارروائی کرتے ہوئے ڈی ایم ایس سمیت تین ملازمین کو معطل کر دیا۔محکمہ صحت کی جانب سے جاری احکامات کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے متعلقہ ملازمین کو فوری طور پر عہدوں سے ریلیو کر کے محکمہ صحت رپورٹ کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
محکمہ صحت کے نوٹیفکیشن کے مطابق معطل کیے جانے والوں میں ڈی ایم ایس ڈاکٹر محمد تنویر،فارمیسی ٹیکنیشن سعد اللہ ظفر اور وارڈ اٹینڈنٹ راشد علی شامل ہیں۔ تینوں ملازمین کو فوری طور پر اپنی موجودہ ذمہ داریوں سے الگ ہو کر محکمہ صحت کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق سرکاری ادویات کی چوری کے واقعے کا مقدمہ تھانہ کوٹ لکھپت میں درج کرایا جا چکا ہے اور معاملے کی پولیس تفتیش جاری ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران اگر مزید کسی شخص یا ملازم کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے تو اس کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ایم ایس لاہور جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے واضح کیا کہ ہسپتال میں کرپشن،بدعنوانی اور سرکاری وسائل کے غیر قانونی استعمال کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ مریضوں کے لیے مختص ادویات اور دیگر طبی سہولیات کسی فرد کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہیں،اس لیے ان میں خوردبرد یا چوری ناقابلِ برداشت ہے۔پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے کہا کہ ادویات چوری کے معاملے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور پولیس تفتیش میں جو بھی حقائق سامنے آئیں گے،ان کی روشنی میں مزید کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہسپتال میں بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد جاری رہے گا اور کسی بھی سطح پر اختیارات کا ناجائز استعمال برداشت نہیں کیا جائے گا۔

پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے بھی واقعے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ادویات براہِ راست مریضوں کے علاج کے لیے مختص ہوتی ہیں اور ان کا تحفظ ہر متعلقہ اہلکار کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ان کے مطابق ہیلتھ پروفیشنلز پر لازم ہے کہ وہ ادویات کی تقسیم اور استعمال میں مکمل دیانت داری،شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنائیں۔پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے کہا کہ مریضوں کے حق پر سمجھوتہ کسی صورت قابل قبول نہیں جبکہ سرکاری وسائل میں خیانت یا بدعنوانی کے مرتکب عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی اور محکمانہ کارروائی ہونی چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی شخص اپنے عہدے یا حیثیت کی بنیاد پر قانون سے بالاتر نہیں ہو گا۔واقعے کے بعد ہسپتال میں ادویات کے سٹاک،ریکارڈ اور ترسیل کے نظام کی نگرانی مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے جبکہ پولیس تحقیقات مکمل ہونے کے بعد معاملے میں مزید پیش رفت سامنے آنے کی توقع ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز