لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)اسلام آباد میں المناک سانحے کے زخم ابھی تازہ ہی تھے کہ لاہور میں گیس لیکج نے ایک اور قیامت برپا کر دی، فیروزپور روڈ کے علاقے اٹاری دربار کے قریب ایک رہائشی گھر میں اچانک ہونے والے دھماکے نے لمحوں میں خوشیوں کو خوف میں بدل دیا، گھر آگ کی لپیٹ میں آ گیا اور آٹھ افراد شدید جھلس کر ہسپتال پہنچا دیے گئے، جب کہ مسلسل بڑھتے ایسے واقعات نے گیس سلنڈرز اور لیکج سے جڑے جان لیوا خطرات پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق لاہور میں ایک بار پھر گیس لیکج کے باعث خوفناک حادثہ پیش آیا،جہاں فیروزپور روڈ پر اٹاری دربار کے قریب ایک رہائشی گھر میں زور دار دھماکا ہو گیا، جس کے نتیجے میں 8 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے۔ دھماکے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ آگ کے شعلوں نے گھر کے ایک حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ریسکیو ذرائع کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب گھر کے ایک کمرے میں گیس لیکج موجود تھی اور ہیٹر جلانے پر اچانک دھماکا ہو گیا۔ آگ بھڑک اٹھنے سے گھر میں موجود افراد جھلس گئے، جنہیں فوری طور پر ریسکیو 1122 نے موقع پر پہنچ کر جنرل ہسپتال منتقل کیا، جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔دوسری جانب پنجاب کے ضلع پاکپتن میں بھی ایک اور خطرناک واقعہ پیش آیا، جہاں چک شفیع کے علاقے میں سلنڈر ری فلنگ کے دوران دھماکا ہو گیا۔ دھماکے کے باعث دکان کی چھت اڑ گئی، بجلی کے تار ٹوٹ گئے اور شدید آگ بھڑک اٹھی۔ ریسکیو ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا، تاہم مالی نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں گیس لیکج کے باعث شادی کا گھر قیامت کا منظر پیش کرتا رہا، جہاں دولہا دلہن سمیت 8 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ ان مسلسل واقعات نے گیس سلنڈر اور لیکج سے جڑے خطرات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران صرف پنجاب میں گیس سلنڈر اور گیس لیکج کے 488 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں 25 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس کے باوجود مختلف علاقوں میں غیر محفوظ سلنڈرز کا استعمال اور غیر قانونی ری فلنگ کا عمل جاری ہے، جو متعلقہ اداروں کی غفلت اور عوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
گیس لیکج نے ایک اور قیامت ڈھا دی،اسلام آباد کے بعد لاہور میں گھر دھماکے سے تباہ،8 افراد جھلس کر زخمی
14