بارسلونا(ایگزو نیوز ڈیسک)بارسلونا میں معروف پاکستانی بزنس مین نعمان قیصر کی نماز جنازہ بڑے رنج و غم کے ماحول میں ادا کر دی گئی،جس میں پاکستانی کمیونٹی، تاجر برادری اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی،مرحوم کا جسد خاکی چند روز قبل پاکستان سے سپین منتقل کیا گیا تھا،جہاں ان کی نماز جنازہ کے بعد مقامی قبرستان میں تدفین کر دی گئی،نماز جنازہ کے موقع پر شرکاءنے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے اہل خانہ سے تعزیت کی جبکہ اس واقعے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔اہل خانہ کی جانب سے ہلاکت کو مبینہ پولیس مقابلہ قرار دیتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے،جس کے باعث یہ معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق بارسلونا میں ممتاز بزنس مین نعمان قیصر کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی،جس میں سیاسی، سماجی شخصیات اور سپین میں مقیم پاکستانی تاجر برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مرحوم کا جسد خاکی چند روز قبل پاکستان سے سپین منتقل کیا گیا تھا،جہاں ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔نماز جنازہ کے موقع پر فضا سوگوار رہی جبکہ شرکاء کی بڑی تعداد نے مرحوم کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔اس موقع پر اہل خانہ نے نعمان قیصر کی ہلاکت کو مبینہ پولیس مقابلہ قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور اسے ایک منظم کارروائی قرار دیا۔
اہل خانہ کا موقف ہے کہ نعمان قیصر مختلف مقدمات میں عدالتوں سے بے گناہ قرار پائے تھے اور عدالت عالیہ کی جانب سے متعلقہ اداروں کو ہدایات بھی جاری کی گئی تھیں کہ انہیں غیر ضروری ہراساں نہ کیا جائے اور بے بنیاد مقدمات میں ملوث نہ کیا جائے۔ اس کے باوجود نہ صرف ان کی عدم موجودگی میں مقدمات درج کیے گئے بلکہ دورانِ حراست بھی ان کے خلاف نئے کیسز بنائے جاتے رہے۔

اہل خانہ نے مزید دعویٰ کیا کہ انہوں نے متعدد مواقع پر عدالتوں کو آگاہ کیا تھا کہ نعمان قیصر کو مبینہ پولیس مقابلے میں نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے تاہم ان کے بقول عدالتی احکامات کے باوجود یہ واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے اس معاملے کو عدالت عالیہ میں چیلنج کرنے اور انصاف کے حصول کے لیے قانونی چارہ جوئی کا اعلان بھی کیا ہے۔دوسری جانب سی سی ڈی پنجاب کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے متعلق ادارے کا کوئی کردار نہیں اور نہ ہی اس حوالے سے کسی کارروائی میں ملوث ہونے کا دعویٰ درست ہے۔یہ واقعہ نہ صرف قانونی و انتظامی سطح پر سوالات کو جنم دے رہا ہے بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے،جہاں اس معاملے کی شفاف تحقیقات اور حقائق سامنے لانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے ۔