اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر رد و بدل نے عوام اور مارکیٹ دونوں کو حیران کر دیا ہے۔حالیہ فیصلے کے تحت پیٹرول اور لائٹ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں معمولی کمی کی گئی ہے۔اس غیر متوازن نوعیت کے فیصلے نے ایک طرف مہنگائی کے دباو کو مزید بڑھا دیا ہے تو دوسری طرف محدود ریلیف نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ماہرین کے مطابق اس طرح کے مسلسل رد و بدل سے نہ صرف معیشت پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں بلکہ عام صارف بھی غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات میں مزید ردوبدل سامنے آیا ہے،جس کے تحت لائٹ ڈیزل کی قیمت میں نمایاں اضافہ جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں کمی کر دی گئی ہے۔آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی(اوگرا) کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔حکومت کی جانب سے لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 17 روپے 3 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے،جس کے بعد اس کی نئی قیمت 287 روپے 54 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔اس اضافے نے ایک بار پھر ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے سے وابستہ افراد کیلئے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے،کیونکہ لائٹ ڈیزل کئی شعبوں میں بنیادی ایندھن کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
دوسری جانب مٹی کے تیل کی قیمت میں 4 روپے 45 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے،جس کے بعد نئی قیمت 360 روپے 76 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ کمی محدود پیمانے پر عوام کو ریلیف فراہم کرے گی تاہم مجموعی طور پر ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات برقرار رہیں گے۔یہ ردوبدل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل ہی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 51 پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا،جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 399 روپے 86 پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل 399 روپے 58 پیسے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔واضح رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل ردوبدل سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے جبکہ ٹرانسپورٹ، زراعت اور گھریلو اخراجات پر اس کے اثرات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں،جس کے باعث مہنگائی کے دباو میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔