پشاور(ایگزو نیوزڈیسک)خیبرپختونخوا میں جاری پیٹرولیم بحران کے پیش نظر صوبائی حکومت نے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کو ہفتے میں دو روز بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے،جس کا مقصد ایندھن کی بچت کے ساتھ ساتھ شہریوں کو درپیش آمدورفت کی مشکلات میں کمی لانا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا نے صوبائی کابینہ کی ہدایت کی روشنی میں تعلیمی اداروں کی دو روزہ بندش سے متعلق باقاعدہ اعلامیہ جاری کردیا ہے۔اعلامیے کے مطابق صوبے بھر کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے جمعہ اور ہفتہ بند رہیں گے جبکہ ہفتے کے باقی پانچ دن معمول کے مطابق تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی۔محکمہ تعلیم کے جاری کردہ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ عارضی طور پر دو ماہ کے لیے نافذ العمل ہوگا۔حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد موجودہ پیٹرولیم بحران کے دوران ایندھن کے استعمال میں کمی لانا اور تعلیمی اداروں تک طلبہ،اساتذہ اور دیگر عملے کی آمدورفت سے پیدا ہونے والی مشکلات کو کم کرنا ہے۔
حکام کے مطابق ہفتے میں دو دن تعلیمی ادارے بند رہنے سے طلبہ اور تعلیمی عملے کی آمدورفت میں استعمال ہونے والے ایندھن کی کھپت کم ہونے کی توقع ہے،جس سے موجودہ بحران کے دوران پٹرولیم مصنوعات کے استعمال کو محدود کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔فیصلے کا اطلاق خیبرپختونخوا کے تمام متعلقہ سرکاری و نجی تعلیمی اداروں پر ہوگا جبکہ محکمہ تعلیم نے اداروں کو جاری کردہ ہدایات کے مطابق تعلیمی سرگرمیوں کا انتظام کرنے کی ہدایت کی ہے۔اعلامیے کے مطابق جمعہ اور ہفتہ کی بندش کے باوجود ہفتے کے باقی پانچ دن تعلیمی سرگرمیاں جاری رہیں گی تاہم اداروں کو تعلیمی امور اور تدریسی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے دستیاب دنوں میں موثر انتظامات کرنا ہوں گے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب خیبرپختونخوا سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی اور فراہمی سے متعلق مسائل کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔حکومت کی جانب سے موجودہ صورتحال میں ایندھن کی بچت اور اس کے استعمال کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔خیبرپختونخوا میں تعلیمی اداروں کی دو روزہ ہفتہ وار بندش بھی اسی سلسلے کا ایک اقدام قرار دیا جا رہا ہے،جسے حکام نے موجودہ پیٹرولیم بحران کے دوران ایندھن کی بچت اور عوامی آمدورفت سے متعلق مشکلات کم کرنے کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔محکمہ تعلیم کے مطابق یہ فیصلہ دو ماہ تک نافذ العمل رہے گا،جس کے بعد صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جائے گا۔