سیالکوٹ(ایگزو نیوز ڈیسک)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اُمت مسلمہ اس وقت بدترین انتشار کا شکار ہے، غزہ سے کشمیر تک مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، مگر ہم علامہ اقبالؒ کا پیغام فراموش کر چکے ہیں۔
سیالکوٹ میں یومِ اقبالؒ کی تقریب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ آج ہمیں پھر وہی سیاسی، فکری اور اخلاقی بیداری درکار ہے جو علامہ اقبال نے اپنی شاعری سے برصغیر کے مسلمانوں میں پیدا کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ اقبالؒ نے جس امت واحدہ کا خواب دیکھا تھا، وہ آج فرقوں، قومیتوں اور سرحدوں میں بٹ چکی ہے، اگر ہم نے اجتماعی اتحاد پیدا نہ کیا تو کل غزہ اور کشمیر کی صورتحال ہر مسلمان ملک کا مقدر بن سکتی ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ اسلام امن، برداشت اور انصاف کا دین ہے لیکن آج عالم اسلام ظلم کے مقابلے میں بکھرا ہوا کھڑا ہے،ہمیں اپنی اپنی حکومتیں بچانے کے بجائے امت کو بچانے کی فکر کرنی ہوگی، اگر ہم متحد نہ ہوئے تو باری باری سب نشانے پر آئیں گے۔اسی دوران خواجہ آصف نے پاک افغان تعلقات کے حوالے سے ایک اور اہم پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ آئندہ مذاکرات زبانی یقین دہانیوں پر نہیں بلکہ تحریری معاہدے کی بنیاد پر ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ دراندازی کی صورت میں قطر اور ترکی ضامن ہوں گے، اور پاکستان نے ترک و قطری ثالثوں کو افغان سرحد سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے ناقابلِ تردید ثبوت بھی پیش کر دیے ہیں۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے کسی کی ہدایت کا محتاج نہیں، ہم خودمختار پالیسی کے تحت امن چاہتے ہیں۔ تاہم اگر سرحد پار فائرنگ یا دراندازی ہوئی تو پاکستان بھرپور جواب دینے کا حق رکھتا ہے، پاک فوج سرحدوں، مساجد اور مدارس کی محافظ ہے، اسے بدنام کرنے یا کمزور کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔
غزہ سے کشمیر تک امت مسلمہ مظلوم،پاک افغان مذاکرات اب زبانی نہیں، تحریری معاہدہ ہو گا،دراندازی پر قطر و ترکی ضامن،خواجہ آصف
3