Home » پنجاب کی سیاست کا ایک اور درخشاں باب بند،سابق وزیراعلیٰ میاں منظور احمد خان وٹو 86 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

پنجاب کی سیاست کا ایک اور درخشاں باب بند،سابق وزیراعلیٰ میاں منظور احمد خان وٹو 86 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

by ahmedportugal
9 views
A+A-
Reset

لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے صوبہ پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ، سینئر سیاستدان، مدبر پارلیمنٹرین اور باوقار سیاسی رہنما میاں منظور احمد خان وٹو 86 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی تصدیق اہلِ خانہ نے دیپالپور میں کی، جہاں وہ طویل عرصے سے علیل تھے،ان کی نماز جنازہ کل بعد نماز ظہر دیپالپور اوکاڑہ میں ادا کی جائے گی، ان کی وفات کی خبر سامنے آتے ہی سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماوں کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق میاں منظور احمد خان وٹو پاکستان کے ان چند رہنماوں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے سیاست کا آغاز نچلی سطح سے کیا اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے ملکی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کا تعلق اوکاڑہ کے معروف وٹو خاندان سے تھا، جس نے دہائیوں تک پنجاب کی سیاست میں اپنی الگ شناخت برقرار رکھی۔ انہوں نے عملی سیاست کا آغاز غیر جماعتی بلدیاتی نظام کے تحت ضلع کونسل اوکاڑہ کے رکن کی حیثیت سے کیا اور بعد ازاں چیئرمین ضلع کونسل منتخب ہوئے،جہاں سے ان کے سیاسی سفر کو باقاعدہ سمت ملی۔1985 کے عام انتخابات میں وہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور اپنی پارلیمانی قابلیت،آئینی معاملات پر گہری نظر اور سیاسی تدبر کے باعث پنجاب اسمبلی کے سپیکر منتخب کیے گئے۔

بطور سپیکر انہوں نے ایوان کی کارروائی کو وقار،نظم و ضبط اور پارلیمانی روایات کے مطابق چلایا،جس پر انہیں سیاسی حلقوں میں خاص احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا۔1988 کے انتخابات میں بھی انہوں نے کامیابی حاصل کی اور ایک مرتبہ پھر پنجاب اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوئے،جس سے ان کی پارلیمانی ساکھ مزید مضبوط ہوئی۔بعد ازاں میاں منظور احمد خان وٹو نے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں اور اس کے ساتھ ساتھ وفاقی سطح پر وزیر برائے امور کشمیر جیسے اہم منصب پر بھی خدمات انجام دیں ۔ان کا دورِ اقتدار سیاسی اتار چڑھاو،مشکل فیصلوں اور تیز رفتار سیاسی تبدیلیوں سے عبارت رہا تا ہم وہ اصولی سیاست،ادارہ جاتی توازن اور پارلیمانی بالادستی کے حامی کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔

میاں منظور وٹو کی سیاسی زندگی کئی منفرد پہلووں کی حامل رہی۔انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز آزاد حیثیت سے کیا۔1977 میں انہیں ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کا ٹکٹ دیا تا ہم بعد ازاں یہ ٹکٹ واپس لے کر غلام محمد مانیکا کو دے دیا گیا،جس پر میاں منظور وٹو نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا مگر کامیابی حاصل نہ کر سکے۔یہ ایک دلچسپ اتفاق بھی ہے کہ انہوں نے 1977 میں پہلا الیکشن آزاد حیثیت سے لڑا اور شکست کھائی جبکہ 2018 میں بھی آخری الیکشن آزاد امیدوار کی حیثیت سے لڑا اور ناکام رہے۔1985 کے بعد وٹو خاندان ہر دورِ حکومت میں کسی نہ کسی صورت اقتدار کے ایوانوں میں موجود رہا تا ہم 2018 کے عام انتخابات میں اوکاڑہ سے میاں منظور وٹو خود آزاد امیدوار تھے جبکہ ان کے بیٹے خرم جہانگیر وٹو اور صاحبزادی روبینہ شاہین وٹو پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر صوبائی نشستوں پر میدان میں اترے مگر وہ بھی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ ان کے بیٹے اور بیٹی تاحال پی ٹی آئی سے وابستہ ہیں جبکہ میاں منظور وٹو خود پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے اور دوبارہ فعال کردار ادا کرنے کے خواہاں رہے۔

وہ اس سے قبل بھی پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے وزیراعلیٰ پنجاب بنے اور پارٹی کے صوبائی صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔2018 کے عام انتخابات کے بعد میاں منظور احمد خان وٹو نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی تا ہم ملکی سیاست میں ان کی رائے،تجربہ اور سیاسی بصیرت کو آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ان کا شمار ان سیاستدانوں میں ہوتا تھا جو سیاسی اختلاف کے باوجود ذاتی شرافت،پارلیمانی وقار اور مکالمے پر یقین رکھتے تھے۔مرحوم کی نمازِ جنازہ کل بعد از نمازِ ظہر دیپالپور اوکاڑہ میں ادا کی جائے گی۔ان کے انتقال کو نہ صرف اوکاڑہ بلکہ پورے پنجاب اور پاکستان کی سیاست کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ان کی وفات کے ساتھ ہی پنجاب کی سیاست کا ایک اہم اور تاریخی دور ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز