کواللمپور(ایگزو نیوز ڈیسک)ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نجیب رزاق کو ساڑھے چار ارب ڈالر کے بدنام زمانہ MDB کرپشن سکینڈل میں اختیارات کے ناجائز استعمال کا مجرم قرار دے دیا گیا۔ کوالالمپور ہائی کورٹ نے جمعے کے روز مقدمے کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ استغاثہ سابق وزیراعظم کے خلاف الزامات کو شک سے بالاتر ثابت کرنے میں کامیاب رہا، جب کہ سزا کے تعین سے متعلق تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
ایگزو نیوز کے مطابق عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ نجیب رزاق نے بطور وزیراعظم، وزیر خزانہ اور MDB ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اپنی طاقتور حیثیت اور وسیع اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور قومی خودمختار ویلتھ فنڈ سے خطیر رقوم غیر قانونی طور پر منتقل کروائیں۔ عدالت کے مطابق ملزم کے خلاف شواہد واضح اور ناقابل تردید ہیں۔ہائی کورٹ کے جج کولن لارنس سیکیراہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ استغاثہ نے پہلے الزام کے حوالے سے اپنا مقدمہ مکمل طور پر ثابت کر دیا ہے، لہٰذا عدالت ملزم کو قصوروار قرار دیتی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ MDB فنڈ سے تقریباً 2.2 ارب ملائیشین رنگٹ (تقریباً 539 ملین ڈالر) کی غیر قانونی منتقلی سے متعلق ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق نجیب رزاق کو اس مقدمے میں 15 سے 20 سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ سابق وزیراعظم کو اختیارات کے ناجائز استعمال کے چار الزامات کا سامنا ہے، جب کہ ان پر منی لانڈرنگ کے مزید 21 مقدمات بھی زیر سماعت ہیں، جن میں سے ہر ایک میں طویل قید کی سزا ہوسکتی ہے۔یہ مقدمہ نجیب رزاق کے خلاف دوسرا بڑا اور سب سے اہم مقدمہ تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں براہِ راست MDB کے اداروں اور کہیں زیادہ رقوم کا معاملہ شامل ہے۔ اس سے قبل 2020 میں نجیب رزاق کو MDB فنڈز میں سے تقریباً 99 لاکھ ڈالر کی خردبرد پر 12 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جسے بعد ازاں کم کر کے 6 سال کر دیا گیا۔ نجیب رزاق اگست 2022 سے جیل میں قید ہیں۔عدالتی کارروائی کا یہ مرحلہ غیر معمولی طور پر طویل رہا، جو سات برس پر محیط تھا۔ اس دوران استغاثہ اور صفائی کے وکلا کی جانب سے مجموعی طور پر 76 گواہان پیش کیے گئے، جن میں خود نجیب رزاق بھی شامل تھے۔واضح رہے کہ MDB اسکینڈل 2015 میں منظر عام پر آیا تھا، جس نے ملائیشیا کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا اور عالمی سطح پر بھی شدید توجہ حاصل کی۔ اس تازہ فیصلے کو ملائیشیا میں احتساب اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جب کہ سیاسی حلقوں کے مطابق یہ فیصلہ ملک کی عدالتی تاریخ میں دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
اختیارات کا ناجائز استعمال اور ساڑھے 4 ارب ڈالر کرپشن کیس،ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق مجرم قرار
4