تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران کو ایک بڑے سفارتی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں سابق وزیر خارجہ کمال خرازی تہران میں ہونے والے حملے میں لگنے والے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے،حملے میں ان کی اہلیہ بھی جاں بحق ہوئیں جبکہ کمال خرازی کئی روز تک تشویشناک حالت میں زیر علاج رہنے کے بعد زندگی کی جنگ ہار گئے،جس سے ملکی سفارتکاری میں ایک اہم خلا پیدا ہو گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایران کے سابق وزیر خارجہ اور سینئر سفارتی رہنما ڈاکٹر کمال خرازی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے،جس کے بعد ملک کی سفارتکاری اور پالیسی سازی کے ایک اہم دور کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ حالیہ حملے میں تہران میں واقع ان کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا گیا تھا،جس کے نتیجے میں ان کی اہلیہ موقع پر جاں بحق ہو گئی تھیں جبکہ کمال خرازی شدید زخمی ہو گئے تھے۔انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ کوما میں چلے گئے اور کئی روز زیر علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئے۔ایرانی ذرائع نے ان کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے انتقال سے ملک کو سفارتی اور علمی میدان میں ایک بڑا نقصان پہنچا ہے۔کمال خرازی ایران کی اعلیٰ قیادت کے قریبی مشیر سمجھے جاتے تھے اور اہم خارجہ امور پر رہنمائی فراہم کرتے رہے۔وہ مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے جبکہ اس سے قبل سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بھی قریبی ساتھی رہے۔
81 سالہ کمال خرازی کو ایران کی خارجہ پالیسی کے معماروں میں شمار کیا جاتا تھا اور وہ سٹریٹیجک کونسل برائے خارجہ امور کے سربراہ بھی تھے،جو اعلیٰ قیادت کو اہم پالیسی معاملات پر مشورے فراہم کرتی ہے۔انہوں نے 1997 سے 2005 تک صدر محمد خاتمی کے دور میں ایران کے وزیر خارجہ کے طور پر ذمہ داریاں نبھائیں اور اس دوران عالمی سطح پر ایران کی سفارتی حکمت عملی کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیاوہ پاکستان سے متعلق سفارتی روابط کی نگرانی بھی کر رہے تھے،جس کے باعث بعض تجزیہ کار اس واقعے کو جاری سفارتی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ڈاکٹر کمال خرازی نہ صرف ایک تجربہ کار سفارتکار تھے بلکہ علمی میدان میں بھی نمایاں حیثیت رکھتے تھے اور متعدد کتابوں کے مصنف تھے۔ان کی وفات کو ایران کے لیے ایک اہم نقصان قرار دیا جا رہا ہے،جس کے اثرات آئندہ عرصے میں سفارتی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔