Home » بھارت میں مسلم دشمنی کی نئی حد، نقاب زبردستی اتارنے پر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے خلاف ایف آئی آر درج

بھارت میں مسلم دشمنی کی نئی حد، نقاب زبردستی اتارنے پر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے خلاف ایف آئی آر درج

by ahmedportugal
6 views
A+A-
Reset

لکھنو(ایگزو نیوز ڈیسک)بھارت میں مذہبی آزادی اور اقلیتی حقوق پر ایک اور سنگین حملہ سامنے آ گیا ہے، جہاں ایک مسلم خاتون کا نقاب زبردستی اتارنے کے واقعے پر بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے خلاف باضابطہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سماج وادی پارٹی کی رہنما سمیعہ رانا نے اپنے وکلا کے ہمراہ لکھنو کے قیصر باغ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرائی، جس میں وزیراعلیٰ بہار نتیش کمار کے ساتھ ساتھ اترپردیش کے وزیر سنجے نشاد کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایک سرکاری تقریب کے دوران ایک مسلم خاتون کی مذہبی شناخت اور ذاتی وقار کو مجروح کیا گیا، جو نہ صرف آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ مذہبی آزادی پر براہِ راست حملہ بھی ہے۔ درخواست گزار کے مطابق کسی خاتون کا نقاب زبردستی اتارنا اس کی نجی زندگی، عقیدے اور بنیادی انسانی حقوق کی توہین کے مترادف ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ایک سرکاری تقریب کے دوران پیش آیا، جہاں وزیراعلیٰ نتیش کمار مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے ڈاکٹرز میں تقرری نامے تقسیم کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک مسلم خاتون ڈاکٹر،جو اپنا تقرری نامہ وصول کرنے سٹیج پر پہنچی،وزیراعلیٰ نے مبینہ طور پر اس کا نقاب زبردستی ہٹا دیا۔واقعے کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شدید ردعمل سامنے آیا اور پورے بھارت میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

دوسری جانب جموں و کشمیر یوتھ کانگریس نے اس واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے بہار ہائی کورٹ سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر ایسے واقعات پر اعلیٰ عدلیہ خاموش رہی تو اقلیتوں کے خلاف ریاستی سطح پر جبر کو مزید تقویت ملے گی۔سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ محض ایک فرد کا عمل نہیں بلکہ بھارت میں بڑھتی ہوئی مسلم دشمن فضا کی عکاسی کرتا ہے،جہاں سرکاری عہدوں پر فائز افراد بھی مذہبی حساسیت اور انسانی وقار کو پامال کرنے سے گریز نہیں کر رہے،ایک منتخب وزیراعلیٰ کی جانب سے اس نوعیت کا اقدام بھارتی آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کی ضمانتوں پر سوالیہ نشان ہے۔واقعے کے بعد انسانی حقوق کے کارکنان،وکلا اور اقلیتی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاتون کو انصاف فراہم کیا جائے۔یہ کیس بھارت میں اقلیتوں کے حقوق،خواتین کے احترام اور قانون کی بالادستی کا ایک اہم امتحان بن چکا ہے،جس کے نتائج ملکی اور عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز