اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رفعت مختار راجہ کی زیر صدارت اردلی روم کا انعقاد کیا گیا، جس میں کرپشن، اختیارات سے تجاوز اور غفلت میں ملوث افسران و اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کے مقدمات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، احتسابی عمل کے نتیجے میں سنگین الزامات ثابت ہونے پر 7 افسران اور اہلکاروں کو مختلف سزائیں سنائی گئیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رفعت مختار راجہ نے محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے انسپکٹر فخر عباس کو غیر قانونی چھاپہ مار کارروائی اور بھتہ خوری کے الزامات ثابت ہونے پر ملازمت سے برخاست کر دیا۔اسی نوعیت کے الزامات پر کانسٹیبل غلام مصطفیٰ کو بھی برطرفی کی سزا سنائی گئی۔اے ایس آئی احسن مسکین کو سیالکوٹ ائیرپورٹ پر مسافر سے غیر قانونی طور پر رقم لینے کے جرم میں ملازمت سے برخاست کر دیا گیا۔اسلام آباد ائیرپورٹ پر غیر قانونی امیگریشن کلیئرنس کے الزامات پر انسپکٹر فہد اقبال کو دو سال کے لیے ترقی روکنے کی سزا دی گئی جبکہ سب انسپکٹر کرن فرید کو ایک سال کے لیے ترقی روکنے کی سزا سنائی گئی۔کراچی ائیرپورٹ پر غیر قانونی امیگریشن کلیئرنس میں ملوث پائے جانے پر سب انسپکٹر تنزیل رسول کو دو سال کے لیے عہدہ کم کرتے ہوئے اے ایس آئی بنا دیا گیا۔اسی طرح سیالکوٹ ائیرپورٹ پر غیر قانونی امیگریشن کلیئرنس کے الزام میں سب انسپکٹر وسیم عبید کو بھی دو سال کے لیے ترقی روکنے کی سزا دی گئی۔
اس موقع پر ڈی جی ایف آئی اے رفعت مختار راجہ نے واضح کیا کہ محکمانہ احتساب کا مقصد ادارے میں قانونی اور پیشہ ورانہ معیارات پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایف آئی اے میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی،اختیارات کے ناجائز استعمال یا غفلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ڈی جی ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ کرپشن،غفلت اور ناقص تفتیش میں ملوث اہلکاروں کی ایف آئی اے میں کوئی جگہ نہیں،ادارے کو کرپشن اور کالی بھیڑوں سے پاک کرنے کے لیے سخت احتسابی عمل بلاامتیاز جاری ہے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔رفعت مختار راجہ نے مزید کہا کہ انسانی سمگلنگ اور کرپشن جیسے سنگین جرائم کا خاتمہ صرف موثر احتسابی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے جبکہ غفلت برتنے والے افسران کو بھی قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ادارہ شفافیت،دیانت داری اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے احتسابی نظام کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔