اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت نے ٹینیور ٹریک سسٹم (ٹی ٹی ایس) کے تحت کام کرنے والی جامعاتی فیکلٹی کی تنخواہوں میں 35 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے،جس کے بعد وزارت خزانہ نے نظرثانی شدہ پے پیکیج کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے اس فیصلے کو عملی شکل دے دی ہے۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اس نظرثانی شدہ ٹی ٹی ایس پے پیکیج کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہو گا،جس کے تحت پروفیسر،ایسوسی ایٹ پروفیسر اور اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدوں پر فائز اساتذہ کی تنخواہوں میں 35 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔یہ اقدام اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تدریسی عملے کو مالی طور پر مستحکم کرنے اور ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ٹی ٹی ایس ملازمین کی بنیادی تنخواہ کو 30 جون 2026 تک حاصل کردہ اسٹیج کے مطابق نئے پے سکیل میں فکس کیا جائے گا تاکہ تنخواہوں کی منتقلی ایک منظم اور شفاف طریقہ کار کے تحت ممکن بنائی جا سکے۔
دستاویز کے مطابق اس اضافے سے پیدا ہونے والے تمام مالی اخراجات متعلقہ جامعات خود اپنے وسائل سے برداشت کریں گی جبکہ اس فیصلے کے نتیجے میں وفاقی حکومت پر کوئی اضافی مالی بوجھ عائد نہیں ہو گا۔اس پہلو کو پالیسی سازی کے مالیاتی توازن کے تناظر میں خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔وزارت خزانہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ٹی ٹی ایس ملازمین کی دیگر تمام سروس شرائط بدستور برقرار رہیں گی اور اس پیکیج کا اطلاق صرف تنخواہوں میں اضافے تک محدود ہو گا۔تعلیمی حلقوں کے مطابق یہ فیصلہ جامعاتی اساتذہ کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے،جس سے نہ صرف ان کی معاشی صورتحال بہتر ہو گی بلکہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں معیار اور استحکام کو فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی۔