اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کا بجٹ 5 جون کے بجائے 10 جون کو پیش کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اہم سیاسی و انتظامی تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا مقصد اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے لیے اضافی وقت فراہم کرنا ہے تاکہ بجٹ کی منظوری کے عمل کو زیادہ ہموار اور متفقہ بنایا جا سکے۔حکومتی موقف کے مطابق اتحادی حکومت کے لیے بجٹ سازی کا مرحلہ ہمیشہ ایک پیچیدہ عمل ہوتا ہے، جس میں مالی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ سیاسی ہم آہنگی بھی ضروری ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں بجٹ کی تاریخ میں رد و بدل کیا گیا تاکہ تمام اتحادیوں کے تحفظات اور تجاویز کو حتمی دستاویز کا حصہ بنایا جا سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو توقع ہے کہ اضافی وقت کے باعث بجٹ پر سیاسی اتفاق رائے مزید مضبوط ہوگا اور پارلیمانی مراحل میں کسی بڑی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔اس فیصلے کو موجودہ سیاسی سیٹ اپ میں اتحادی تعاون کے تسلسل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کا بجٹ 5 جون کے بجائے 10 جون کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے،جس کی تصدیق وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران کی۔ان کے مطابق بجٹ کی تاریخ میں تبدیلی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت اور انہیں اعتماد میں لینے کے لیے کی گئی ہے۔طارق فضل چودھری نے کہا کہ اتحادی حکومت کو بجٹ سازی کے مرحلے میں دو بنیادی چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے،ایک بجٹ کو حتمی شکل دینا اور دوسرا اتحادی جماعتوں کو ایک صفحے پر لانا،اسی لیے اضافی وقت درکار تھا تاکہ تمام سیاسی شراکت داروں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ بجٹ کی تاریخ میں تاخیر کی وجہ گلگت بلتستان کے انتخابات نہیں ہیں،جیسا کہ بعض حلقوں میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کی ایک مضبوط اور قابل اعتماد اتحادی ہے۔
اسی گفتگو کے دوران طارق فضل چودھری نے سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات بڑھ رہے ہیں اور علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی کے گروپس کے درمیان کشیدگی موجود ہے۔ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کو پہلے اپنے اندرونی اختلافات ختم کرنے چاہئیں،اس کے بعد دیگر سیاسی معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت کسی معاملے میں براہ راست مداخلت کرے تو صورتحال تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے تاہم موجودہ حکمت عملی سیاسی استحکام کو ترجیح دینے پر مبنی ہے۔