ایف بی آر میں بڑی تبدیلی کی تیاری، مصنوعی ذہانت اور کیش لیس اکانومی سے ٹیکس نظام جدید بنانے کا اعلان
لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے تقاضوں کے مطابق اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ حکومت ٹیکس نظام میں بہتری، ایف بی آر اصلاحات اور کیش لیس اکانومی کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ٹیکس پالیسی اور ٹیکس نظام کی بہتری کے لیے تمام متعلقہ فریق مل کر کام کر رہے ہیں۔ ایف بی آر میں اصلاحات کے لیے نئے ماڈلز متعارف کرائے جا رہے ہیں تاکہ ادارے کی کارکردگی بہتر اور عوام کے لیے سہولیات میں اضافہ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے، اسی مقصد کے تحت ایف بی آر میں اصلاحاتی پروگرام پر کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے میں تبدیلی کے ابتدائی نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں جبکہ ٹیکس نظام کو مزید شفاف، مو¿ثر اور جدید بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ دور مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے، اس لیے ایف بی آر کے افسران کو بھی ان جدید ذرائع سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈیٹا کے بہتر استعمال سے ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور نظام میں شفافیت لائی جا سکتی ہے۔محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت مختلف اداروں کے تعاون سے اپنے ڈیٹا بیسز کو مضبوط بنا رہی ہے تاکہ معاشی فیصلے زیادہ مو¿ثر انداز میں کیے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی اور سیمنٹ سمیت مختلف شعبوں میں ٹیکس وصولیوں میں بہتری آئی ہے، جبکہ صنعت اور مارکیٹ کے حالات کو بہتر بنانا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر میں جاری اصلاحات ایک اہم مرحلہ ہیں اور اس عمل میں تمام شراکت داروں کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہو کر ہی اداروں کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے۔
ایف بی آر میں بڑی تبدیلی کی تیاری،مصنوعی ذہانت اور کیش لیس اکانومی سے ٹیکس نظام جدید بنانے کا اعلان
18