اسلام آباد(بیورو رپورٹ)وفاقی حکومت ’کمائی ‘کرنے کے مختلف بہانے تلاش کرتی ہے اور پھر شہریوں کی ’کھال‘ اتارنے کے لئے نت نئے قانون سامنے آ جاتے ہیں،اب حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کی حوصلہ شکنی اور الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینے کے نام پر نئی ”انرجی وہیکل لیوی“ نافذ کر دی ہے جبکہ اس سلسلہ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو( ایف بی آر) نے مختلف سی سی کی گاڑیوں پر لیوی کے نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
’ایگزو نیوز‘ کے مطابق پٹرول اور ڈیزل پر چلنے والی گاڑیوں کی حوصلہ شکنی کیلئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے پیٹرول اورڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں پرنئی لیوی کے نفاذ کانوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کے مطابق 1300 سی سی سے چھوٹی مقامی و درآمدی گاڑیوں پر ایک فیصد انرجی وہیکل لیوی لاگو ہو گی،پک اپ،بسوں اور ٹرکوں پربھی ایک فیصد لیوی عائد کی گئی ہے۔1300 سے 1800 سی سی گاڑیوں پر 2 فیصد انرجی وہیکل لیوی نافذ ہو گا،1800 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر 3 فیصد لیوی لاگو ہو گی۔ایف بی آر کا کہنا ہے کہ لیوی کا مقصد صارفین کوالیکٹرک گاڑیوں کی طرف راغب کرنا ہے،پاکستان میں تیار یا اسمبلڈ گاڑیوں پر لیوی مینو فیکچرر ادا کرے گا جبکہ درآمدی گاڑیوں پر لیوی متعلقہ خریدار ادا کرنے کا پابند ہو گا۔
پیٹرول اور ڈیزل پر چلنے والی گاڑیوں پر 3 فیصد تک لیوی کے نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری،1300 سی سی سے چھوٹی مقامی اور درآمدی گاڑیوں پر ایک فیصد لیوی نافذ
12