Home » ”اچھی بات ہے“ عمران خان کی ہسپتال منتقلی پر مولانا فضل الرحمان کا مختصر مگر معنی خیز ردعمل

”اچھی بات ہے“ عمران خان کی ہسپتال منتقلی پر مولانا فضل الرحمان کا مختصر مگر معنی خیز ردعمل

by ahmedportugal
18 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر سیاسی ردعمل سامنے آگیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام(ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے فیصلے سے متعلق سوال پر مختصر مگر معنی خیز انداز میں ”اچھی بات ہے“ کہہ کر ردعمل دیا جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ تاہم مخالفت برائے مخالفت نہیں ہونی چاہیے اور اپوزیشن کو اپنا آئینی و جمہوری کردار ذمہ داری سے ادا کرنا چاہیے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام(ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت اور اپوزیشن کے تعلقات کے حوالے سے کہا ہے کہ دونوں کے درمیان مناسب سیاسی فاصلہ برقرار رہنا چاہیے تاہم اختلاف رائے کو ذاتی دشمنی،تعصب یا محض مخالفت برائے مخالفت میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر بھی انہوں نے مختصر مگر مثبت ردعمل دیا اور اسے ”اچھی بات ہے“قرار دیا۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی فاصلے کم ہونے کے سوال پر جے یو آئی(ف)کے سربراہ نے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان ایک معقول اور جمہوری فاصلہ ہونا ضروری ہے تاہم اس فاصلے کا مطلب یہ نہیں کہ ایک دوسرے کے خلاف ہر معاملے میں بلاجواز محاذ آرائی کی جائے،اپوزیشن کا بنیادی کردار حکومت کی پالیسیوں اور کارکردگی کی نگرانی،کمزوریوں کی نشاندہی اور ان کی اصلاح کے لیے آواز اٹھانا ہے،اگر اپوزیشن صرف مخالفت برائے مخالفت کو اپنا سیاسی اصول بنا لے تو اس سے جمہوری نظام مضبوط ہونے کے بجائے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات جمہوریت کا فطری حصہ ہیں لیکن ان اختلافات کو نفرت،ذاتی حملوں یا مستقل محاذ آرائی کی شکل نہیں اختیار کرنی چاہیے۔ان کے بقول سیاسی جماعتوں کو اپنے آئینی اور پارلیمانی کردار کو سامنے رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔مولانا فضل الرحمان نے سیاسی رابطوں کے بارے میں کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مکمل قربت یا فاصلہ ایک ہی پیمانے سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ان کے بقول اس وقت دونوں جانب ”قربتیں نہیں،نزدیکیاں“موجود ہیں تاہم سیاسی معاملات میں حتمی رائے حالات اور وقت کے مطابق واضح ہوگی۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بعض اہم قومی معاملات پر فوری طور پر حتمی سیاسی نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے پہلے یہ دیکھا جانا چاہیے کہ اس کے لیے سیاسی اور سماجی ماحول کس حد تک تیار ہے۔ان کے مطابق کسی معاملے پر فیصلہ کرنے سے پہلے اس کی اصولی اور عملی جہتوں کو سمجھنا ضروری ہے۔مولانا فضل الرحمان نے صوبوں اور انتظامی معاملات سے متعلق بحث پر بھی محتاط انداز اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے حساس معاملات میں حمایت یا مخالفت کی عجلت مسائل کو مزید پیچیدہ کرسکتی ہے،اس لیے وسیع تر مشاورت اور سنجیدہ بحث کے ذریعے مستقبل کی سمت طے کی جانی چاہیے۔جے یو آئی (ف) کے سربراہ کی گفتگو ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مختلف اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سیاسی رابطے اور باہمی مشاورت جاری ہے اور ملک کے اہم سیاسی و آئینی معاملات پر مختلف جماعتیں اپنے اپنے موقف سامنے لارہی ہیں۔

عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان کا مختصر مگر مثبت ردعمل بھی سیاسی حلقوں میں اہم سمجھا جارہا ہے۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو طبی معائنے اور علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے اور ان کے لیے طبی سہولتوں کا باقاعدہ انتظام کرنے کی ہدایت کی ہے۔سپریم کورٹ نے عمران خان کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے،ان کی حفاظت کے لیے موثر سیکیورٹی انتظامات کرنے اور اہلخانہ سے ملاقات کی سہولت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا ہے کہ ہسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال متاثر نہیں ہونی چاہیے۔

عدالتی حکم کے مطابق عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی ان کے طبی معاملات میں شریک ہوں گے جبکہ علاج اور ہسپتال سے متعلق اخراجات ان کے اہلخانہ کے ذمے ہوں گے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16 ستمبر کو مقرر کی ہے اور ہدایت کی ہے کہ عمران خان کے علاج سے متعلق طبی ریکارڈ اور دیگر مطلوبہ تفصیلات آئندہ سماعت پر عدالت کے سامنے پیش کی جائیں۔اس ترتیب کے تحت بانی پی ٹی آئی کا ہسپتال میں قیام آئندہ سماعت تک جاری رہنے کی توقع ہے۔مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ سیاسی اختلاف کو برقرار رکھتے ہوئے بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مکمل تصادم کے بجائے ایک ذمہ دارانہ اور جمہوری طرزِ عمل کے حامی ہیں،جس میں اپوزیشن حکومت کی نگرانی اور اصلاح کا کردار ادا کرے جبکہ حکومت بھی اختلاف رائے کو سیاسی دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز