اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک) جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاک سعودی دفاعی معاہدے کا دل و جان سے خیر مقدم کرتے ہیں، یہ معاہدہ اسلامی دنیا اور خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس پر ہم سعودی عرب کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اب اس کی ابتداءہوگئی ہے اور دیگر اسلامی ممالک بھی اس اتحاد کا حصہ بن سکتے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق قومی اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی دیرینہ خواہش رہی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب اسلامی دنیا کی قیادت کریں، اور اب اس معاہدے نے اس خواب کی تعبیر کی سمت قدم بڑھایا ہےتاہم انہوں نے حکومت پاکستان کی ٹرمپ امن منصوبے سے متعلق پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی باتوں میں تضاد ہے اور ان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ٹرمپ کا مجوزہ معاہدہ قابلِ قبول نہیں کیونکہ اس میں فلسطینی عوام کو محکوم بنانے اور اسرائیل کو کھلی چھوٹ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ٹرمپ معاہدے میں گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو روکنے کے بجائے اسے تقویت دی گئی ہے، جبکہ اسلامی دنیا کے وہ ممالک جنہوں نے ٹرمپ ٹیم سے ملاقات کی، انہوں نے بھی اس پر تحفظات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ سینیٹر مشتاق مظلوم فلسطینیوں کی مدد کے لیے پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے، ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں، اللہ انہیں محفوظ رکھے۔مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ جب تک اسرائیل گریٹر اسرائیل کی بات کرے گا، ہم مکمل فلسطین کی بات کرتے رہیں گے، اور کسی بھی ایسے منصوبے کو تسلیم نہیں کریں گے جو فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کو سلب کرے۔