اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں پوری قوت صرف کی مگر اس کے باوجود پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کو ختم کرنے میں ناکام رہی، اس طویل سیاسی کشمکش کے نتیجے میں ملک کی معیشت، عدالتی نظام اور عوام سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جبکہ موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے تمام فریقوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
ایگزو نیوز کے مطابق فواد چودھری نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں تین مرکزی فریق ہیں، جن میں اسٹیبلشمنٹ، بانی پی ٹی آئی اور حکومت شامل ہیں اور اگر ملک کو استحکام کی راہ پر ڈالنا ہے تو تینوں کو ایک قدم پیچھے ہٹنا ہوگا، سیاسی ضد اور محاذ آرائی نے نہ صرف جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا بلکہ قومی مفادات بھی پس منظر میں چلے گئے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے قریبی ساتھی شاہ محمود قریشی، میاں محمود الرشید، اعجاز چودھری، ڈاکٹر یاسمین راشد اور ایک اور رہنما بانی پی ٹی آئی کو سب سے بہتر سمجھتے ہیں، اسی لیے حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ ان پانچوں شخصیات کو پیرول پر رہا کیا جائے تاکہ بات چیت کا ماحول پیدا ہو سکے۔سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم کو باقاعدہ طور پر یہ درخواست پہنچائی ہے اور اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت اس خط کا کیا جواب دیتی ہے؟۔ ان کے مطابق ادارے بھی اس بات کے خواہاں ہیں کہ سیاسی درجہ حرارت کم ہو اور ملک میں کشیدگی کا خاتمہ ہو۔فواد چودھری نے بتایا کہ وہ سپیکر قومی اسمبلی اور متعدد سینئر وزرا سے ملاقاتیں کر چکے ہیں اور حکومت بھی اس امر کو تسلیم کرتی ہے کہ پی ٹی آئی کے مو¿قف میں وزن موجود ہے، اگر پانچ رہنماو¿ں کو پیرول پر رہا کر دیا جائے تو مذاکرات کے لیے سازگار فضا پیدا ہو سکتی ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ نیت کا ہے، اگر نیت درست ہو تو سیاسی معاملات میں پیش رفت ممکن ہے۔ فواد چودھری کے مطابق پاکستان کو درپیش سنگین سیاسی و معاشی مسائل کا حل صرف مفاہمت، سنجیدہ مکالمے اور لچکدار رویے میں ہی پوشیدہ ہے، بصورت دیگر محاذ آرائی کا سلسلہ ملک کو مزید نقصان پہنچاتا رہے گا۔
تین سالہ دباو بھی پی ٹی آئی کو ختم نہ کر سکا،سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے سب کو ایک قدم پیچھے ہٹنا ہو گا،فواد چودھری
3