اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)سمارٹ میٹر منصوبے میں مبینہ ساڑھے چھ ارب روپے کی میگا کرپشن کے معاملے نے توانائی کے شعبے میں ہلچل مچا دی ہے، جہاں جعلی کمپنیوں کو نوازنے، غیر قانونی ٹھیکوں کی الاٹمنٹ اور اختیارات کے سنگین ناجائز استعمال کے الزامات پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے،چاروں بڑی بجلی تقسیم کار کمپنیوں لیسکو،گیپکو،میپکو اور فیسکو سے مکمل ریکارڈ حاصل کر لیا ہے جبکہ ابتدائی تفتیش میں ایسے چونکا دینے والے شواہد سامنے آئے ہیں جو اس منصوبے کو ملک کے بڑے مالی سکینڈلز کی فہرست میں شامل کر سکتے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق سمارٹ میٹر منصوبے میں مبینہ ساڑھے چھ ارب روپے کی خطیر کرپشن کے معاملے پرایف آئی اے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔ذرائع کے مطابق ملک کی چار بڑی بجلی تقسیم کار کمپنیوں لیسکو،گیپکو،میپکو اور فیسکو نے ایف آئی اے کو مطلوبہ ریکارڈ فراہم کر دیا ہے،جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا محور غیر قانونی ٹھیکوں کی الاٹمنٹ،جعلی دستاویزات کے استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر مرکوز ہے۔الزام ہے کہ بعض ایسی کمپنیاں، جو قانونی طور پر تحلیل ہو چکی تھیں،انہیں بھی ٹینڈرنگ کے عمل میں غیر قانونی طور پر شامل کیا گیا، جس سے شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے چاروں بجلی کمپنیوں کے اعلیٰ افسران سے تقریباً تین گھنٹے طویل پوچھ گچھ کی،جس دوران ہر افسر سے 20، 20 سوالات پر مشتمل تحریری جوابات بھی حاصل کیے گئے۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ سوالات ٹینڈرنگ کے طریقہ کار،سپلائرز کے انتخاب اور مالی منظوریوں سے متعلق تھے۔ایف آئی اے نے 7 اپریل 2025 کے بعد دیے گئے تمام ٹھیکوں اور ٹینڈرز کا جزوی ریکارڈ بھی قبضے میں لے لیا ہے۔ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ سمارٹ میٹر منصوبے میں ٹھیکے دینے کے عمل کے دوران لیسکو کے بعض افسران کی مبینہ ملی بھگت بھی سامنے آئی ہے،جس پر مزید گہرائی سے تفتیش جاری ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچائے جانے کا خدشہ ہے۔خاص طور پر لیسکو کی جانب سے نئے سمارٹ میٹرز کی خریداری میں پپرا قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں،جو اس بڑے مالی سکینڈل کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ شواہد مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔