Home » سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے آرمی چیف کے سامنے 14 سالہ سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی

سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے آرمی چیف کے سامنے 14 سالہ سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی

by ahmedportugal
10 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید نے فوجی عدالت کی جانب سے سنائی گئی 14 سالہ سزا کے خلاف آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے سامنے اپیل دائر کر دی ہے،اس اپیل کی تصدیق ان کے وکیل میاں علی اشفاق نے کی،جنہوں نے کہا کہ پہلے سے ہی موکل کی سزا کو چیلنج کرنے کی ہدایات موجود تھیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق وکیل میاں علی اشفاق کے مطابق، فیلڈ کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران فیض حمید کے اعصاب مضبوط رہے اور وہ مکمل قانونی طور پر اپنا موقف پیش کرتے رہے۔ 6 دسمبر کو موکل کو چارج شیٹ کیا گیا تھاجبکہ گزشتہ سال 13 دسمبر کو باضابطہ ٹرائل شروع ہوا۔میاں علی اشفاق نے مزید کہا کہ پہلے اپیل کا فورم آرمی کورٹ آف اپیل ہے جبکہ آرمی چیف کے پاس بھی اپیل کا قانونی اختیار موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ کی ایک سابقہ ججمنٹ کے مطابق سزا کے خلاف رائٹ آف اپیل 45 دن کے اندر دائر کیا جانا ضروری ہے تاہم ہائی کورٹ میں اس ججمنٹ پر اب تک عمل درآمد نہیں ہوا، اگر مستقبل میں قانون سازی یا عدالتی فیصلہ ایسا ہوا کہ ہائی کورٹ ہی پہلا فورم ہو گا، تو اس کے مطابق لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا لیکن اس وقت قانونی نقطہ نظر سے آرمی چیف کے سامنے اپیل دائر کرنا درست اور مناسب طریقہ کار ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق، فوجی عدالتوں میں دی گئی سزا کے خلاف اپیل دائر کرنا ایک بنیادی قانونی حق ہے، جو ملٹری ایکٹ اور فوجی عدالتوں کے ضابطہ کار (Army Act 1952 اور relevant rules of procedure under the ATA) کے تحت دائر کی جاتی ہے۔ اپیل میں سزا کے نفاذ کے طریقہ کار، شواہد کی جانچ، اور قانونی تقاضوں کی تعمیل کے حوالے سے اعتراضات شامل ہیں، جنہیں آرمی چیف قانونی اور آئینی فریم ورک کے مطابق دیکھیں گے۔فیض حمید کی فوجی سروس اور ان کے خلاف فیصلہ ملکی دفاع اور قومی سلامتی کے حساس امور سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ فوجی ماہرین کے مطابق آرمی چیف کے سامنے دائر اپیل کی سماعت میں قانونی اور عسکری پہلووں کو ایک ساتھ دیکھا جائے گا،جس میں نہ صرف سزا کی قانونی حیثیت بلکہ فوجی عدالتی نظام کی شفافیت اور اس کے معیار پر بھی روشنی پڑے گی۔یہ اپیل فوجی عدالت کے فیصلوں کی قانونی جانچ اور اس کے آئینی دائرہ اختیار کے تعین کے لیے ایک اہم مثال بن سکتی ہے۔ آئندہ سماعت میں قانونی دلائل کی تفصیل، شواہد کی جانچ اور آئینی حقوق کے تحفظ کے نقطہ نظر سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔ فوجی اور سیاسی حلقوں کی توجہ اس اپیل پر مرکوز ہے، کیونکہ یہ نہ صرف فیض حمید کے مستقبل بلکہ فوجی عدالتوں کے قانونی دائرہ اختیار اور قومی سلامتی کے حساس امور کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز