کابل(ایگزو نیوز ڈیسک)افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سیکیورٹی کے بلند و بانگ دعوے ایک بار پھر زمیں بوس ہو گئے،جہاں شہر کے انتہائی محفوظ ترین سمجھے جانے والے ہائی سیکیورٹی زون میں واقع ایک ہوٹل کو زوردار بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا۔دھماکے کے نتیجے میں کم از کم سات افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے،جن میں غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں،واقعے نے نہ صرف دارالحکومت بلکہ پورے خطے میں سیکیورٹی خدشات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل کے سخت سیکیورٹی زون میں واقع ایک ہوٹل میں ہونے والے زوردار بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم سات افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں،جن میں دو چینی شہری بھی شامل ہیں۔افغان حکام اور عالمی خبر رساں اداروں نے واقعے کی تصدیق کر دی ہے جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دھماکا کابل کے تجارتی علاقے شہرِ نو میں گل فروشی سٹریٹ پر واقع ایک ہوٹل میں ہوا،جو دارالحکومت کے ان علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں غیر ملکی شہریوں،سفارتی عملے،اہم دفاتر،شاپنگ سینٹرز اور ریستورانوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور اسے نسبتاً محفوظ ترین علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔افغانستان میں سرگرم امدادی تنظیم ’ایمرجنسی‘ کے کنٹری ڈائریکٹر ڈیجان پینک نے بتایا کہ دھماکے کے بعد اب تک 20 زخمیوں کو ان کے ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے،جن میں چار خواتین اور ایک بچہ بھی شامل ہیں۔ان کے مطابق سات افراد ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ چکے تھے۔
افغان طالبان کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانی نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے دھماکے میں متعدد ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق کی تاہم کہا کہ جاں بحق افراد کی حتمی تعداد تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران کے مطابق دھماکے کا ہدف شہرِ نو کے مصروف تجارتی علاقے میں واقع ایک ہوٹل تھا،جسے شدید نقصان پہنچا ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دھماکے کے فوری بعد فائر فائٹرز،ایمبولینسز اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئیں جبکہ پولیس نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔زخمیوں اور لاشوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔چین کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق دھماکے میں دو چینی شہری شدید زخمی ہوئے جبکہ ایک افغان سیکیورٹی گارڈ ہلاک ہو گیا۔رپورٹ کے مطابق دھماکے کے باعث ہوٹل اور اس سے ملحقہ ریستوران کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ہوٹل کے باہر سڑک پر بکھرا ملبہ،شیشوں کے ٹکڑے اور عمارت کے اگلے حصے میں بننے والا بڑا شگاف دیکھا جا سکتا ہے،جہاں سے دھواں اٹھتا رہا۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔افغان حکام نے تاحال دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کے بارے میں کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا اور کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ پیر کے روز ہونے والے اس دھماکے کی ذمہ داری بھی تا حال کسی گروہ نے قبول نہیں کی تاہم ماضی میں شدت پسند تنظیم داعش کی مقامی شاخ اس نوعیت کے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔واضح رہے کہ افغان طالبان نے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک میں امن و امان کی بہتری کا دعویٰ کیا تھا تاہم حالیہ برسوں میں کابل سمیت مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں نے سیکیورٹی انتظامات پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔