Home » ایردوان کا اسرائیل پر دباو بڑھانے کا مطالبہ،فلسطین کو تسلیم نہ کرنے والے ممالک سے پالیسی بدلنے کی اپیل

ایردوان کا اسرائیل پر دباو بڑھانے کا مطالبہ،فلسطین کو تسلیم نہ کرنے والے ممالک سے پالیسی بدلنے کی اپیل

by ahmedportugal
14 views
A+A-
Reset

نیویارک(ایگزو نیوز ڈیسک)ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے غزہ کی صورتحال پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائی اور اقوام متحدہ سے اسرائیل پر دباو بڑھانے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے ان ممالک سے بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم نہ کرنے کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی جو اب تک فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرتے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب ایردوان نے کہا کہ فلسطینی صدر محمود عباس مسلسل دوسرے سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ذاتی طور پر شرکت نہیں کرسکے،جسے انہوں نے فلسطینیوں کے ساتھ ناانصافی قرار دیا۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کے سیاسی اور بنیادی حقوق کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ترک صدر نے غزہ میں جاری بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں انسانی صورتحال انتہائی سنگین ہے اور عالمی برادری کو اس بحران کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔انہوں نے غزہ میں فوری جنگ بندی اور متاثرہ فلسطینیوں تک انسانی امداد کی رسائی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ایردوان نے لبنان اور غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل پر دباو بڑھایا جائے تاکہ حملے روکے جاسکیں۔انہوں نے اسرائیل کی کارروائیوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا جبکہ اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ت

رک صدر نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے معاملے پر بھی واضح موقف اختیار کیا۔انہوں نے ان ممالک سے اپیل کی جو ابھی تک فلسطین کو تسلیم نہیں کرتے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔ایردوان نے فلسطینی ریاست کے قیام اور مسئلہ فلسطین کے سیاسی حل کی حمایت کا اعادہ کیا۔غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترک صدر نے اسرائیل کی فوجی کارروائیوں پر شدید تنقید کی اور کہا کہ فلسطینی شہریوں کو بڑے پیمانے پر مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ غزہ میں جاری انسانی بحران کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ایردوان نے اقوام متحدہ کی مجموعی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ بین الاقوامی امن اور سلامتی برقرار رکھنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا ہے،موجودہ عالمی نظام میں اصلاحات ناگزیر ہوچکی ہیں،خصوصاً سلامتی کونسل کے موجودہ ڈھانچے میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

ترک صدر نے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور فیصلہ سازی کے موجودہ طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں زیادہ نمائندہ اور موثر نظام تشکیل دینے پر زور دیا۔ ان کا موقف تھا کہ عالمی ادارے کی ساکھ اور موثریت بحال کرنے کے لیے اصلاحات ضروری ہیں۔رجب طیب ایردوان نے مسئلہ کشمیر کا بھی ذکر کیا اور اسے خطے کا ایک اہم تنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر سمیت تمام علاقائی تنازعات کو بات چیت اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے تنازعات کے پرامن حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ترک صدر نے سعودی عرب میں حالیہ صورتحال کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ترکی علاقائی تنازعات کے حل اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔سعودی عرب پر حوثی حملوں کے تناظر میں ترکی نے ریاض کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔ایردوان نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ ترکی کے بڑھتے ہوئے دفاعی اور تزویراتی روابط کا بھی ذکر کیا۔ان کے بیان کے مطابق تینوں ممالک کے درمیان حالیہ دفاعی تعاون کا مقصد علاقائی سلامتی کے حوالے سے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔اس سے قبل ترکیہ،پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے پر بھی پیش رفت ہوئی ہے،جس کے تحت ایک رکن پر حملے کو مشترکہ سلامتی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔

ترک صدر نے کہا کہ ترکی خطے کے مسائل کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کو جاری رکھے گا اور مختلف تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی،علاقائی ممالک کو اپنے مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاون اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ایردوان کا خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کے بحران، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی،یمن سے سعودی عرب پر حملوں اور علاقائی سلامتی کے معاملات عالمی سفارت کاری کے اہم موضوعات بنے ہوئے ہیں۔ترکیہ،پاکستان، سعودی عرب اور دیگر ممالک نے بھی حالیہ علاقائی اجلاسوں میں جنگ بندی،سفارت کاری اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی اعلیٰ سطح عمومی بحث 22 سے 28 ستمبر تک جاری ہے،جس میں دنیا بھر کے سربراہان مملکت و حکومت عالمی امن،سلامتی اور دیگر اہم عالمی مسائل پر اپنے موقف پیش کر رہے ہیں۔ایردوان کے خطاب میں فلسطین،غزہ،اقوام متحدہ کی اصلاحات،مسئلہ کشمیر اور علاقائی سفارت کاری نمایاں موضوعات رہے جبکہ ترک صدر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جاری تنازعات کے حل اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کرے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز